جمعیۃ علماءشہر و ضلع پونہ کے زیر اہتمام سی اے اے ،این آر سی ،این پی آر بیداری اجلاس این پی آر صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پورے دیش کے لئے خطرناک ہے ۔ مولانا ندیم صدیقی و دیگر کا اظہار خیال

پونہ ۔ 14؍ مارچ ( پریس ریلیز) آج یہاں پونہ شہر کے قلبی علاقہ میں واقع ساوتری بائی پھلے اسمارک ہال میں سی اےاے ،این آرسی اور این پی آر بیداری اجلاس مولانا عبد الرشید قاسمی صدر جمعیۃعلما ءضلع پونہ کی سر پرستی اورمولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب صدر جمعیۃ علماءمہا راشٹر کی صدارت میں انعقاد عمل میں آیا جس میں بڑی تعداد میں عوام الناس سے شرکت کرکے معلومات حاصل کی ۔ اس اہم اجلاس میں نصف سے زائد پرو گرام NPRاور اس سے جڑی معلومات کے سلسلہ میں مختص کیا گیا تھا ،جس میں مولانا محمد ابراہیم قاسمی صدر جمعیۃ علما ءضلع شولا پور نے اس بابت مکمل رہنمائی فر مائی ۔مولانا نے اپنے تفصیلی بیان میں فر مایا کہ سی اے اے کے ذریعہ مظلولوں کو شہریت دینے سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ہماری مخالفت صرف اس لئے ہے کہ اس میں مذہبی بنیاد پر تفریق کی گئی ہے جو کہ ہندوستان کے دستور اور آئین کے خلاف ہے ۔

صدر اجلاس مولانا ندیم صدیقی صاحب نے مذکورہ بالا سیاہ قانون کے نفاذ سے ہونے والے نقصانات و مضرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے فر ما یا کہ این پی آر صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پورے دیش کے لئے خطرناک ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک ملک کی کئی ریاستوں نے اپنی اسمبلیوں میں اسکے خلاف قرارداد پاس کیا ہے ۔مولانا نے جمعیۃ علما ہند کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ صوبہ آسام میں 1976 سے آج تک آسامی مسلمانوں کے لئے این آرسی کی لڑائی لڑ رہی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ یہ لڑائی جذبات کی لڑائی نہیں ہے بلکہ پوری سنجیدگی سے ہوش و ہواش میں لڑی جانے والی لڑائی ہے جس میں کامیاب ہونے کے لئے ہمیں بھر پور جدو جہد کرنی ہوگی ۔

اس پرو گرام میں مذکورہ بالا سیاہ قوانین کے خلاف پونہ شہر کے علاقہ کونڈہ اور مومن پورہ شاہین باغ میں بیٹھی خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے اس احتجاج کےمنتظمین اور ذمہ داروںحاجی شکیل مجاہد ،مفتی شاہد قاسمی صدر جمعیۃ علماء پونہ اور زاہد بھائی،اسی طرح شعیب بھائی شیخ، کی گل پوشی اور شال پوشی کی گئی ، مولانا عمیر قاسمی نے پرو گرام کی کاروائی چلائی،جب کہ مولانا ابرار احمد قاسمی نے شر کا اجلاس کا شکریہ ادا کیا ،مولاناعبد الرشید قاسمی صاحب کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading