صحافیوں کے خلاف کارروائی ان کی آواز کو دبانے کی لیے کی جارہی ہے، ہم اس پر خاموش نہیں بیٹھیں گے
ذات پرمبنی مردم شماری سے پسماندہ طبقات کو انصاف اور مراٹھابرادری کو ریزرویشن ملے گا
ممبئی:ملک میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جمہوریت کے چوتھے ستون کی آواز کو دبانے کی مسلسل کوشش کررہی ہے اور یہ کوشش خود مودی حکومت ہی کررہی ہے۔ اس تعلق سے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ آج دہلی میں کئی بڑے صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ یہ چھاپے ماری واضح طور پر مودی حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ مودی حکومت سرکاری مشینریزکا استعمال کرکے ان صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری وسابق وزیر جیتندراوہاڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہیں ہیں۔
جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ آج دہلی میں کچھ بڑے صحافیوں پر چھاپے مارے گئے۔ ان کے فون اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیے گئے ہیں۔ بھیما کوریگاؤں معاملے میں بھی اسی طرح ایک صحافی کا لیپ ٹاپ ضبط کیا گیا تھا،جس میں بعد میں کچھ قابل اعتراض چیزیں ڈال کر اس کو ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ہمیں خدشہ ہے کہ دہلی کے جن صحافیوں کے لیپ ٹاپ وموبائیل ضبط کیے گئے ہیں ان میں بھی اسی طرح کے قابلِ اعتراض چیزیں پلانٹ کی جاسکتی ہیں، کیونکہ یہ پوری کارروائی حکومت کی ایماء پران صحافیوں کی آواز کو دبانے کے لیے ہورہی ہے۔اوہاڈ نے کہا کہ ان صحافیوں کے خلاف کی جانے والی پوری کارروائی پر ہماری نظر ہے، یہ کارروائی ان صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے خلاف ہے اور ہماری پارٹی ملک کے خلاف کی جانے والی کسی بھی حرکت کو برداشت نہیں کرے گی۔ صحافیوں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
جتیندر اوہاڈ نے مزید کہا کہ بہار کی حکومت نے ذات پرمبنی مردم شماری کرائی ہے۔ کل ایک اچھی بات ہوئی کہ اس مردم شماری کی رپورٹ منظرعام پرآگئی۔ اس حوالے سے اعداد و شمار اب سامنے آ گئے ہیں۔ این سی پی نے اکثر مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے کیونکہ ذات پرمبنی مردم شماری نہ صرف پسماندہ طبقات کو انصاف فراہم کرے گی بلکہ مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے میں بھی معاون ہوگی۔اوہاڈ نے کہا کہ فڈنویس نے بھی مہاراشٹر میں ذات پر مبنی مردم شماری کی حمایت کی تھی، اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ مہاراشٹر میں بھی ذات پر مبنی مردم شماری کی جانی چاہئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ مہاراشٹر کی اصل صورت حال کیا ہے۔جتیندر اوہاڈ نے مزید کہا کہ کئی ریاستوں نے ریزرویشن بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، 50 فیصد کی شرط کی وجہ سے، اس ریاست میں محروم طبقے کو انصاف نہیں مل سکتا، اگر پسماندہ طبقے کے افراد کی تعداد 90 فیصد ہے، تو 50 فیصد کی شرط کیوں ہے؟
