ناندیڑ کے واقعے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیرصحت وطبی تعلیم کے وزیر استعفیٰ دیں
این سی پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے کا مطالبہ
ممبئی:ریاست کی شندے فڑنویس حکومت کے پاس اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے پیسے ہیں، لیکن عوام کی صحت اور ان کی زندگیاں بچانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ناندیڑ کے سرکاری اسپتال میں 24 گھنٹوں میں 24 بے گناہ لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے، لیکن ریاستی حکومت پر اس دردناک واقعے کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ باتیں این سی پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کہی ہیں، وہ پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔
ناندیڑ ضلع میں 24 لوگوں کی افسوسناک موت پر ملک اور ریاست میں اقتدار پر قابض لوگوں کی جانب سے اظہارافسوس کے طور پر ایک لفظ تک ادا نہیں کیا جارہا ہے جس کاواضح مطلب یہ ہے کہ مرکز وریاست جو لوگ برسرِ اقتدار ہیں ان کے حساسیت نام کی کوئی شئے باقی نہیں بچی ہے۔ بی جے پی نہ صرف ہمیشہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے بلکہ اس کے برعکس جن کامیابیوں کے نام پر خود کی پیٹھ تھپتھپاسکتی ہے اس کا سہرا خود ہی اپنے سرباندھتی ہے۔ لیکن ناندیڑ کے اس افسوسناک واقعہ پر حکمراں طبقے کی جانب سے معمولی سا اظہارتعزیت تک نہیں کیا گیا، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ تپاسے نے مزید کہا کہ فی الوقت شندے فڈنویس اور اجیت پوار کی حکومت میں جھوٹ لیپاپوتی کے ذریعے کام کاج چل رہا ہے۔
ناندیڑ کے اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق دوا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہ اموات ہوئی ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کے دیہی علاقوں کے اسپتالوں کوریاستی حکومت کی جانب سے وزیرخزانہ نے کتنا فنڈز مختص کیا تھا اور اگر فنڈز دیا گیا تھا تو محکمہ صحت عامہ نے ادویات کیوں نہیں خریدیں؟تپاسے نے کہا کہ ریاست کے وزیر صحت تانا جی ساونت اور طبی تعلیم کے وزیر حسن مشرف کوان واقعات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدینا چاہئے۔
