تیندووں کے حملے سے تحفظ کے لیے حکومت کا فیصلہ کن قدم، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی پہل پر 11.25 کروڑ روپے کی منظوری، پونے ضلع میں 20 ریسکیو ٹیمیں، 500 پنجروں اور جدید ساز و سامان کی فراہمی
ممبئی: گزشتہ چند برسوں سے پونے ضلع کے جُنر، امبے گاؤں، کھڑ اور شیروُر تعلقوں میں انسان اور تیندوے کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم انتہائی سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ تیندووں کی تعداد میں اضافہ اور ان کا انسانی آبادیوں میں داخل ہونا مقامی شہریوں کے لیے خوف و ہراس کا باعث بن گیا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پیش آنے والے کئی واقعات میں متعدد شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں 13 سالہ ایک لڑکے، ایک ضعیف خاتون اور ایک کمسن بچی کی المناک موت نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اس پس منظر میں نائب وزیر اعلیٰ اور پونے کے سرپرست وزیر اجیت پوار نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے 11 کروڑ 25 لاکھ روپے کی رقم کی منظوری دی ہے تاکہ تیندووں کو قابو میں لانے، محفوظ طور پر منتقل کرنے اور انسان-تیندوا تصادم کو کم کرنے کے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ اجیت پوار نے کہا کہ انسانی جانوں کا ضیاع روکنا حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خوف زدہ نہ ہوں۔ پونے ضلع کے شمالی حصے مثلاً جُنر، امبے گاؤں، کھڑ اور شیروُر میں زرخیز زمین اور آبپاشی منصوبوں کی بہتات کی وجہ سے گنّے، کیلے، انگور اور انار جیسی فصلوں کی کاشت میں تیزی آئی ہے۔ ان فصلوں نے تیندووں کے لیے خوراک، پانی اور پناہ کے قدرتی وسائل مہیا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں اس خطے میں ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تصادم کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ امبے گاؤں کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر دلیپ وَلسے پاٹل کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں اجیت پوار نے 11.25 کروڑ روپے کی رقم کو منظوری دی۔
اس فنڈ کے ذریعے جُنر کے جنگلاتی علاقے میں 20 خصوصی ریسکیو ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ ہر ٹیم میں تربیت یافتہ شکاری، کھوجی، نشہ آور گن رکھنے والے اہلکار، ریسکیو وہیکل، جدید کیمرے، پنجروں اور دیگر ضروری آلات کی سہولت ہوگی۔ اس مہم کے تحت 500 پنجروں، 20 ٹرینکولائزنگ گن، 500 ٹریپ کیمروں، 250 لائیو کیمروں، 500 طاقتور ٹارچوں، 500 اسمارٹ اسٹکوں اور 20 میڈیکل کٹوں کی فراہمی کی جائے گی۔ ہر ٹیم میں 5 سے 6 تربیت یافتہ اراکین ہوں گے۔ جنر کا جنگلاتی علاقہ تقریباً 611.22 مربع کلومیٹر پر محیط ہے جس میں چار تعلقے شامل ہیں۔ محکمۂ جنگلات کے مطابق اس علاقے میں تقریباً 1500 تیندوے موجود ہیں۔ اس سے قبل ضلعی منصوبہ بندی کمیٹی نے پنجروں کی خریداری کے لیے 2 کروڑ روپے کی رقم منظور کی تھی اور خرید کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
اجیت پوار نے کہا کہ ان ٹھوس اقدامات کے ذریعے تیندووں کو انسانی آبادیوں سے محفوظ فاصلے پر رکھنا، ان کا مناسب باز آبادکاری عمل میں لانا اور انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔ عوام میں پھیلا ہوا خوف دور کرنا اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ انسانی جانوں کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو آپریشن اور تکنیکی تیاریوں کا عمل فوراً شروع کیا جائے گا اور انسانی زندگیوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح بنی رہے گی۔