نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے نیتن گڈکری کو لکھا خط
ممبئی: نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے پونے اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کی سنگین صورتحال کے پیش نظر مرکزی وزیر برائے سڑک و نقل و حمل نیتن گڈکری کو ایک خط لکھ کر تین اہم قومی شاہراہوں کی فوری توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ جن قومی شاہراہوں کی توسیع کی درخواست کی گئی ہے، ان میں این ایچ-60، این ایچ-65 اور این ایچ-548ڈی شامل ہیں۔
اپنے خط میں اجیت پوار نے لکھا ہے کہ پونے میٹروپولیٹن علاقے اور اس کے صنعتی زون میں آبادی اور گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ان شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ این ایچ-60 جو فی الحال چار لین کا ہے اسے چھ لین کا کیا جائے، این ایچ-65 کو بھی چار لین سے چھ لین میں اپ گریڈ کیا جائے اور این ایچ-548ڈی جو اس وقت دو لین ہے اسے چار لین میں تبدیل کیا جائے۔
اجیت پوار نے نشاندہی کی کہ ان تمام شاہراہوں سے متعدد تعلیمی ادارے، صنعتی زون، رہائشی کالونیاں، اسپتال، پیٹرولیم اور گاڑیوں کی صنعت کے مراکز، اور دیگر تجارتی سرگرمیاں جڑی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے ان راستوں پر گاڑیوں کی آمدورفت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی نقل و حرکت سے نہ صرف بار بار ٹریفک جام ہو رہا ہے بلکہ ڈرائیوروں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ ان شاہراہوں پر اب گاڑیوں کی جو تعداد چل رہی ہے وہ مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ ہے، اور اس صورتحال کا مستقل حل صرف فوری توسیع میں ہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان شاہراہوں کی توسیع آئندہ مجوزہ ایلیویٹڈ کوریڈورز کی تعمیر کے دوران متبادل راستوں کے طور پر بھی معاون ثابت ہوگی۔ چونکہ یہ تینوں قومی شاہراہیں پونے شہر کے داخلی دروازوں سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے بیرونی علاقوں سے آنے والے بھاری مال بردار ٹرک اور دیگر گاڑیاں شہر میں داخل ہوتے وقت زبردست ٹریفک کی رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔
اجیت پوار نے زور دیا کہ ان شاہراہوں پر جلد از جلد اصلاحی کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ تلےگاؤں، چاکن، شکرپور شاہراہ کی توسیع ایلیویٹڈ ہائی وے کی آخری ٹینڈرنگ کے مکمل ہونے تک ایک عبوری حل کے طور پر کام دے سکتی ہے۔ اپنے خط میں اجیت پوار نے نیتن گڈکری سے اپیل کی کہ وہ اس تجویز کو ترجیحی بنیادوں پر منظور کریں اور مطلوبہ بجٹ اور انتظامی منظوری فراہم کریں، تاکہ پونے کے صنعتی علاقوں میں روز بروز بڑھتی ٹریفک پریشانیوں میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔