’لاڈکی بہن‘ اسکیم میں 4800 کروڑ روپے کا گھوٹالہ سپریا سُولے نے کیا ایس آئی ٹی سے جانچ کا مطالبہ

نئی دہلی، 29 جولائی 2025

نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) کی قومی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے مہاراشٹر حکومت کی مقبول عام اسکیم ’ماجی لاڈکی بہن‘ (میری پیاری بہن) اسکیم میں 4800 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی ایس آئی ٹی کے ذریعے آزادانہ اور شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سولے نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت خود اس کی جانچ نہ کرائے تو ہم یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے اور مرکز سے اس گھوٹالے کی تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔

سپریا سولے نے کہا کہ بھائی بہن کا رشتہ والدین کے بعد سب سے مقدس سمجھا جاتا ہے، لیکن مہاراشٹر حکومت نے اس رشتے کو بھی شرمندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاڈکی بہن اسکیم کے تحت 4800 کروڑ روپے کا کرپشن سامنے آیا ہے اور اس کا جواب پورے حکومت کو دینا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اسکیم کے لیے کئی سطح کی جانچ موجود تھی تو پھر 14 ہزار سے زائد مرد کیسے اس اسکیم کے مستحقین میں شامل ہو گئے؟ یہ امر خود ریاستی حکومت کی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

سپریا سولے نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی تقریباً 2 کروڑ 38 لاکھ خواتین کو اس اسکیم کا فائدہ دیا گیا۔ مگر ان میں سے ابتدائی مرحلے میں 26 لاکھ خواتین (تقریباً 10 فیصد) کو بعد ازاں نااہل قرار دیا گیا، جو کہ انتخابی سیاست پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب اس اسکیم کے تحت آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور دیگر دستاویزات لازمی تھے، تو پھر مردوں کے کھاتوں میں پیسہ کیسے منتقل ہو گیا؟ اس کا جواب حکومت کو دینا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی طالب علم کے داخلہ فارم میں نمبر کم ہوتے ہیں تو وہ خارج ہو جاتا ہے، کسان اگر انشورنس اسکیم کے لیے فارم بھرتے ہیں تو تھوڑی سی غلطی پر وہ بھی رد ہو جاتا ہے، تو پھر ’لاڈکی بہن‘ اسکیم میں مردوں کے فارم کیسے قبول ہو گئے؟ انہوں نے پوچھا کہ ڈیجیٹل انڈیا جیسے جدید تکنیکی نظام میں ایسی سنگین غلطی کیسے ہوئی؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسمبلی انتخابات سے صرف تین مہینے قبل یہ اسکیم لائی گئی تھی اور اس کے فوراً بعد سبھی کو فائدہ دیا گیا، لیکن اب جا کر کئی کو نااہل قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمولی نہیں بلکہ پورے 4800 کروڑ روپے کا سنگین گھوٹالہ ہے۔

سپریا سولے نے کہا کہ اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کا خواتین و اطفال بہبود کا محکمہ سب سے اچھا ہے تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کیسے ہو گئیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر اسکیم پر عمل درآمد میں غلط طریقے اپنائے گئے ہیں تو اس کی ذمے داری پورے حکومت کو لینی چاہیے۔ اگرچہ انہوں نے خواتین و اطفال بہبود کی وزیر ادیتی تٹکڑے پر کوئی براہِ راست الزام نہیں لگایا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے نفاذ میں جن وزراء اور نائب وزرائے اعلیٰ نے قیادت کی، انہیں اس کی ذمے داری قبول کرنی پڑے گی۔

NCP-SP Urdu News 29 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading