مودی حکومت کے سات سال، عام لوگوں کی حالت زار، کورونا وبا سے نمٹنے میں ناکامی: نواب ملک
کیا مودی کا اشکبارہونا عوامی ناراضگی کو دور کرنے کی غرض سے تھا؟
ممبئی:مرکزکی بی جے پی حکومت کے سات سال مکمل ہونے پر راشٹروادی کانگریس پارٹی نے اس پورے دور کو ملک کے لیے تباہ کن قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سات سالوں میں ملک کی عوام کا جینا محال ہوا اور مرکزی حکومت کورونا سے وبا میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، بیروزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے،ملک کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے، ایسی صورت میں بھی بی جے پی بھلا کن باتوں پر فخرمحسوس کررہی ہے؟ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کا یہ سات سالہ دورِ حکومت ملک کے لیے مکمل طور پرتباہ کن رہا ہے۔واضح رہے کہ بی جے پی کی جانب سے حکومت کے سات سال مکمل ہونے پر جشن منعقد کرنے کا پروگرام تھا، لیکن کورونا وبا کے پیشِ نظر بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو حکم دینا پڑا کہ کوئی جشن نہ منایا جائے۔
نواب ملک نے بی جے پی حکومت کے انڈین ماڈل پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جو انڈین ماڈل بی جے پی پیش کررہی ہے، اس کی ملک کو قطعا ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ندیوں میں لاشیں تیررہی ہیں، لوگ کورونا سے مررہے ہیں اور اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت ہے، کورونا سے بچنے کے لیے ویکسین نہیں ہے، طبی سازوسامان کا زبردست فقدان ہے۔ اگر یہی انڈین ماڈل ہے تو ایسے انڈین ماڈل کو کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔
وزیراعظم مودی کے اشکبار ہونے پر نواب ملک نے کہا کہ اپنے کیبن میں بیٹھ کر وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے وزیراعظم ہمیشہ ماسک لگائے رہتے ہیں، مگر جس دن وہ اشکبار ہوئے اس دن انہوں نے ماسک نہیں لگایا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دن ان کے اشکبار ہونا منصوبہ بند تھا۔ نواب ملک نے سوال کیا کہ مودی ملک کی عوام سے کوورنا سے بچنے کے لیے سختی سے حفاظتی اقدام اپنانے کی تاکید کرتے ہیں تو پھروہ خود ایسا کرنے سے کیسے گریز کرسکتے ہیں؟ اس کا مطلب واضح ہے کہ انہیں ملک کو دکھانا تھا کہ وہ کس قدر جذباتی ہیں اور ملک کی صورت حال سے وہ کس قدر دکھی ہیں۔ نواب ملک نے کہا کہ ملک میں لاکھوں لوگوں کواپنی زندگی گنوانی پڑی ہے، کورونا کی روک تھام کے لیے ادویات کا فقدان ہے، انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے، مرکزی حکومت وبیشتر ریاستی حکومت کے نکمے پن کی وجہ سے بہتوں کو اپنی زندگیاں گنوانی پڑی ہیں۔ اس صورت حال نے مودی سرکار کے خلاف عوامی غم وغصے میں اضافہ کردیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسی لیے وزیراعظم جذباتی ہوگئے تھے جبکہ لوگ ان کے جذباتی ہونے پر ہی سوالیہ نشان لگارہے ہیں۔