دنیا میں جہاں جہاں بھی آمریت، آئی ختم ہوگئی

اگر کوئی طاقت کا غلط استعمال کرتا ہے تو لوگ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں: شرد پوار

ناگپور: دنیا میں جہاں جہاں بھی آمریت آئی، ایک نہ ایک دن ختم ہوگئی۔ سری لنکا میں عوام ایوان صدر میں گھس گئے اور حکمران خاندان کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ اس لیے اگر کوئی اقتدار کا غلط استعمال کرتا ہے تو لوگ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، یہ سری لنکا میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے،اس کی فکر نہ کرتے ہوئے ہمیں متحد رہنا چاہئے۔ یہ اپیل آج یہاں این سی پی کے سربراہ شردپوار نے ناگپور میں کیا ہے۔

ناگپور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شردپوارنے کہا کہ جمہوریت کو قائم رکھنے کے لیے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ہمارے لیے ایک معیاردیا ہے۔ ہمیں اس معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط تنظیم کی ضرورت ہے اور وہ تنظیم نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مرکزی حکومت کی آمریت کے خلاف مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔اس کی زبردست قیمت ہمارے نواب ملک اور انل دیشمکھ کو ادا کرنی پڑی ہے۔ آج جن کے ہاتھوں میں ملک کا اقتدار ہے انہوں نے اس اقتدار کو مرکز بناکر اپوزیشن پارٹیوں کی آواز دبانا شروع کردیئے ہیں۔شردپوار نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ کی حکومت کا تختہ الٹ کر بی جے پی نے اپنی حکومت قائم کی۔ کرناٹک میں بھی لالچ اور خوف کے ذریعے کانگریس حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں شیوسینا کے کچھ لوگوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر ریاست میں بہتر کام کررہی حکومت کو ختم کردیا گیا۔آج جگہ جگہ اقتدار کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ زیادہ دنوں تک چلنے والا نہیں ہے۔

شردپوار نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔ اگر حکومت ایوان پارلیمنٹ میں ارکان پارلیمنٹ کی بات نہیں سنتی تو ارکان پارلیمنٹ بار بار اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ پھر بھی اگر حکومت توجہ نہیں دیتی ہے تو ارکان پارلیمنٹ ایوان سے واک آوٹ کرکے باہر جاتے ہیں اور مہاتماگاندھی کے مجسمے کے پاس احتجاج کرتے ہیں۔ یہ جمہوریت میں ارکان پارلیمنٹ کا حق ہے۔ لیکن اب ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ کے احاطے میں بھی احتجاج ونعرے بازی کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

شردپوار نے کہا کہ ودربھ اور خاص طو رسے ناگپور شہر میں ہماری طاقت محدود تھی۔ یہاں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے انیل دیشمکھ اور دیگر ساتھی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے ان پر مصیبت آگئی۔ اس کے باوجود شہر صدر اور ضلع صدر یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی اور دیگر عہدیداروں اور کارکنوں نے ان کا ساتھ دیا۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ یہاں پارٹی کی تصویر میں یقینی طور پر بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پچھلی بار ہم کم سیٹوں پر لڑے تھے، اس بار مقامی لیڈروں کو بیٹھ کر زیادہ سیٹوں پر لڑنے کے بارے میں غورکرنا چاہیے۔ آپ لوگوں کا جو بھی فیصلہ ہوگا، پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ اگر پارٹی کی بنیاد مضبوط کرنی ہے تو اسمبلی انتخابات میں یہاں سامنا کرنا پڑے گا۔

شردپوار نے کہا کہ اگرچہ بی جے پی نے آج ناگپور میں اپنی طاقت بڑھالی ہے لیکن ناگپور کے لوگوں کی ذہنیت ترقی پسند ہے۔ آزادی سے پہلے کے دور میں ناگپور میں کانگریس کے کنونشن میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اس کنونشن میں مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو موجود تھے۔ بابا صاحب امبیڈکر نے بھی اپنے مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ اسی ناگپور شہر میں کیا تھا۔ چنانچہ ناگپور شہر تاریخی فیصلے کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کا آدمی غریب ہو سکتا ہے لیکن بے بس نہیں۔اگر وہ متحد ہوگیا تو ناانصافی کرنے والوں کی اینٹ سے اینٹ بجادیتا ہے اور تصویر بدل دیتا ہے۔ اس لیے ناگپور ریاست اور ملک میں طاقت کے غلط استعمال کے خلاف لڑنے کے لیے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھے گا۔