ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بیئر و شراب کی دکانوں کے لیے ’این او سی‘ لازمی: اجیت پوار

شراب کی دوکانیں بند یا جاری رکھنے کے لیے 75 فیصد ووٹنگ لازمی

حکومت کا غیر قانونی شراب فروشی کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ

ممبئی: مہاراشٹر میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کمرشل اسپیس میں بیئر یا شراب کی دکانیں کھولنے کے لیے اب متعلقہ سوسائٹی کی منظوری لازمی ہوگی۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اسمبلی میں یہ اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی نیا بیئر شاپ یا شراب کی دکان ہاؤسنگ سوسائٹی کی ’این او سی‘ کے بغیر شروع نہیں کی جا سکے گی۔ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف عوامی جذبات کا احترام کرنا ہے بلکہ قانون و نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے نوجوان نسل کو نشے کی لت سے بچانا بھی ہے۔

اجیت پوار نے مزید وضاحت کی کہ کسی میونسپل کارپوریشن کے حدود میں قائم کسی بھی وارڈ میں اگر شراب کی دکان بند کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس پر ووٹنگ کرائی جائے گی۔ اگر مجموعی ووٹوں میں سے 75 فیصد ووٹ شراب کی دکان بند کرنے کے حق میں ہوں گے، تو متعلقہ دکان بند کرنے کا فیصلہ لیا جائے گا۔ نائب وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کا سماج کے مختلف طبقات کی جانب سے خیرمقدم کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملے گا اور غیر ضروری شراب فروشی پر قابو پایا جا سکے گا۔

ریاست میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں شراب کی دکانوں کی اجازت کے سبب پیدا ہونے والے قانونی و سماجی مسائل کا معاملہ بی جے پی ایم ایل اے مہیش لانڈگے، ایڈوکیٹ راہول کول اور دیگر اراکین اسمبلی نے اسمبلی میں وقفہ سوالات میں نوٹس کے ذریعے اٹھایا۔ سابق وزیر سدھیر منگنٹیوار نے بھی اس معاملے پر اہم نکات پیش کیے۔ ان پر جواب دیتے ہوئے اجیت پوار نے کہا کہ حکومت کی پالیسی شراب فروشی کو فروغ دینے کی نہیں بلکہ شراب بندی کے اصولوں کو سختی سے نافذ کرنے کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہاراشٹر میں کئی دہائیوں سے نئے شراب لائسنس جاری نہیں کیے جا رہے اور تعلیمی اداروں کے قریب شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بھی علاقے کے عوام اگر شراب کی دکان کی مخالفت کریں تو اس پر ووٹنگ کا قانونی طریقہ پہلے سے موجود ہے۔ مگر اس عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے اب یہ طے کیا گیا ہے کہ میونسپل وارڈ میں 75 فیصد عوامی ووٹنگ کسی دکان کے خلاف ہونے پر اسے بند کر دیا جائے گا۔

اجیت پوار نے اسمبلی میں یہ بھی کہا کہ حکومت ریاست میں شراب فروشی کو بڑھانے کے بجائے غیر قانونی شراب فروشی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شراب فروشی سے ریاست کے امن و امان پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے تو حکومت کسی بھی قیمت پر ایسے عناصر کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس معاملے میں عوامی نمائندوں اور شہریوں کی تمام شکایات اور تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ نائب وزیر اعلیٰ کے اس سخت اور واضح مؤقف کی اسمبلی میں موجود سابق وزیر سدھیر منگنٹیوار سمیت متعدد اراکین نے تعریف کی اور اس فیصلے کو سماج کے مفاد میں قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہنے والے شہریوں کو شراب کی دکانوں کے قیام یا بندش کے حوالے سے مزید اختیارات حاصل ہوں گے، جس سے نہ صرف مقامی سطح پر امن و سکون برقرار رہے گا بلکہ نوجوان نسل کو منشیات اور شراب کی لت سے بچانے میں بھی مدد ملے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading