گوشت کی دکانوں کے لیے سرٹیفکیٹ دینے کا نیا کاروبار؟ وزیر کو یہ اختیار کس نے دیا؟
شندے حکومت کے فیصلے فڑنویس معطل کر رہے ہیں، حکومتی کشمکش میں عوام کا سب سے زیادہ نقصان
ممبئی: کانگریس کے سینئر لیڈر نانا پٹولے نے ریاستی حکومت کے ایک وزیر پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے وزرا کو سخت تنبیہ دیں۔ نانا پٹولے نے کہا ہے کہ اگر وزرا ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ عوام کون سا گوشت کہاں سے خریدیں اور اس کے لیے دکانداروں کو سرٹیفکیٹ جاری کریں گے، تو یہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی وزیر کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ کاروباری معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر کشیدگی پیدا کرے؟ یہ ایک نیا کاروبار ہے جس کا مقصد نہ صرف ذاتی فائدہ حاصل کرنا ہے بلکہ سماج میں فرقہ وارانہ اختلافات کو بڑھاوا دینا ہے۔
اسمبلی کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ قوانین بنانا حکومت کا کام ہے، لیکن اگر کوئی وزیر خود مذہبی منافرت کو ہوا دے رہا ہے تو یہ مہاراشٹر کے لیے شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کو بتائے کہ انہیں کون سا گوشت خریدنا چاہیے اور کس سے خریدنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ مہاراشٹر میں مذہبی مسائل پیدا کرکے سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر حکومت اور وزیر اعلیٰ کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ نانا پٹولے نے زور دے کر کہا کہ وزرا کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور انہیں کسی بھی حال میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
نانا پٹولے نے مذہبی مقامات پر لاوڈ اسپیکر کے استعمال کے حوالے سے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے لاؤڈ اسپیکر کے حوالے سے جاری کردہ احکامات کسی ایک مذہب کے لیے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ان کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔ اگر ان قوانین کو یکطرفہ طور پر کسی ایک کمیونٹی پر نافذ کیا گیا، تو اس سے مزید تنازعات جنم لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو افسران سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ نانا پٹولے نے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے لاؤڈاسپیکر کے معاملے پر کسی مخصوص مذہب کا ذکر نہیں کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ گمراہ کن باتوں پر توجہ نہ دیں۔
نانا پٹولے نے مہاراشٹر حکومت میں جاری اندرونی کشمکش پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے فیصلوں کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس مسلسل منسوخ کر رہے ہیں، جس سے ریاست کے عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شندے کے ایم ایل ایز کو دی گئی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے، جبکہ دوسری طرف بی جے پی کے قریبی افراد کو ’وائی پلس‘ سیکورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ’آنند کا راشن‘ اور ’شیو بھوجن یوجنا‘ جیسی عوامی فلاحی اسکیموں کا بھی بجٹ میں کوئی ذکر نہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان منصوبوں کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ ایکناتھ شندے اور دیویندر فڑنویس کے درمیان جاری کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر عوامی مفاد کے منصوبوں پر سیاست بند نہ کی گئی تو کانگریس سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔