بین الاقوامی دورے میں قطر، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا اور مصر کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں بھارت کو عالمی یکجہتی کا واضح پیغام اور بھارت کی 75 سالہ قیادت کا عالمی سطح پر احترام: سپریا سُولے
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) کی قومی کارگزار صدر رکن پارلیمنٹ سپریا سُولے نے کہا ہے کہ بھارت کے کثیر الجماعتی نمائندہ وفد کے ساتھ انہوں نے قطر، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا اور مصر کا سرکاری دورہ کیا، جہاں ان ممالک کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلگام میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں ان ممالک کی حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی کارروائی کو جائز اور متوازن قرار دیا۔
سپریا سُولے نے ممبئی میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان بین الاقوامی ملاقاتوں میں یہ بات بار بار دہرائی گئی کہ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف جس عزم اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق میزبان ممالک کے رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ بھارت پر حملہ ایک کھلا ظلم تھا اور بھارت نے اس کے خلاف جو فوری اقدام کیا، وہ جائز اور ناگزیر تھا۔ تاہم بعد ازاں بھارت نے جس تدبر، صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا، اس پر بھی عالمی قیادت نے بھارت کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملاقات میں یہ مشترکہ پیغام سننے کو ملا کہ عالمی امن، باہمی احترام اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی موقف ہی مستقبل کا واحد راستہ ہے۔
سپریا سُولے نے کہا کہ ان ممالک میں بھارت کی قیادت کے گزشتہ 75 سے 76 سالہ سیاسی و سفارتی سفر کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہر مقام پر مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور وزیراعظم نریندر مودی کے سفارتی و سیاسی کردار کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ دنیا بھارت کی قیادت کو مستقل، باوقار اور انسانیت دوست سمجھتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان چاروں ممالک میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات اور فلسفہ کا گہرا اثر آج بھی موجود ہے، اور مقامی قیادت بھارت کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو فخر سے یاد کرتی ہے۔ سپریا سُولے نے واضح کیا کہ وہ کسی حکومت کی نمائندہ بن کر نہیں، بلکہ ایک بھارتی شہری کے طور پر شراکت دار وفد کے ساتھ ان دوروں پر گئی تھیں، اور ان کی اولین ترجیح بھارت کے قومی مفادات کی نمائندگی تھی۔
اس موقع پر انہوں نے اس بات پر بھی مسرت کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت نے آخرکار ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) طویل عرصے سے مسلسل مطالبہ اور وکالت کر ہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سماجی انصاف اور عوامی فلاحی پالیسیوں کی بنیاد مضبوط کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور ہمیں امید ہے کہ جلد ہی اس کے اعداد و شمار منظر عام پر آئیں گے۔