سپریا سولے کے مطالبے پر مرکزی وزیر زراعت کا کارروائی کا وعدہ
نئی دہلی: این سی پی-ایس پی کی قومی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے لوک سبھا کے بجٹ اجلاس کے دوران مہاراشٹر میں ہوئے کروڑوں روپے کے زرعی بیمہ گھوٹالے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وقفہ سوال و جواب میں سپریا سولے نے کہا کہ ریاستی وزیر زراعت خود اس گھوٹالے کا اعتراف کر چکے ہیں، جس کی رقم ابتدائی طور پر 500 کروڑ روپے بتائی جا رہی تھی۔ تاہم، بی جے پی کے ایم ایل اے سریش دھس نے اس معاملے کو مزید سنگین قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ درحقیقت یہ گھوٹالہ 5000 کروڑ روپے کا ہوسکتا ہے۔
سپریا سولے نے ایوان میں سوال اٹھایا کہ آیا مرکزی وزیر زراعت کو اس بدعنوانی کی اطلاع ہے؟ اگر ہاں، تو اس معاملے میں تحقیقات کے احکامات کب دیے جائیں گے؟ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ مہاراشٹر میں برسر اقتدار جماعت کے عوامی نمائندوں نے اس گھوٹالے کی اطلاع مرکزی حکومت کو دی تھی یا نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی مالی بے ضابطگی پر خاموشی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
سپریا سولے نے مزید کہا کہ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنائی گئی اسکیموں میں اس طرح کی بدعنوانی ناقابل برداشت ہے۔ اگر ریاستی وزیر زراعت نے خود اعتراف کیا ہے کہ پی ایم فصل بیمہ یوجنا میں کرپشن ہوا ہے، تو مرکزی حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور بدعنوانوں کو سخت سزا دی جائے۔ اس اہم مسئلے پر سپریا سولے کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر مرکزی وزیر زراعت نے یقین دلایا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ اگر کسی بھی سطح پر بدعنوانی ثابت ہوئی، تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس ضمن میں سپریا سولے نے کہا کہ مہاراشٹر کے کسانوں کے لیے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ اس اسکیم کا مقصد قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا تھا۔ لیکن اگر اس میں ہی گھوٹالہ ہوا ہے، تو اس کا سیدھا نقصان کسانوں کو ہوا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت کی لاپرواہی اور بدعنوانی کی وجہ سے کسانوں کو ان کے واجب بیمہ کی رقم نہیں ملی، بلکہ وہ کسی اور کی جیب میں چلی گئی۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب زرعی بیمہ یوجنا پر سوال اٹھائے گئے ہوں۔ اس سے قبل بھی کئی بار کسانوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں بیمہ کی پوری رقم نہیں ملی، جبکہ کمپنیاں منافع کماتی رہیں۔ اب جبکہ ریاستی حکومت کے ہی نمائندے اس گھوٹالے کی تصدیق کر رہے ہیں، تو مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جلد از جلد تحقیقات شروع کرے۔