بی جے پی اتحاد حکومت کا صرف ایک وزیر نہیں بلکہ پوری حکومت بدعنوان ہے: نانا پٹولے

ریاست میں توہم پرستی کے خلاف قانون ہونے کے باوجود جادو ٹونے کے واقعات کیسے ہو رہے ہیں؟

چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کی جرات کیسے ہوتی ہے؟ محض فنکار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سینگ نکل آئے!

ممبئی: مہاراشٹر میں 2014 سے 2019 کے دوران فڈنویس حکومت ہو یا اس کے بعد کی شندے-فڈنویس حکومت، یا موجودہ بی جے پی اتحاد حکومت، ان کے دور میں بدعنوانی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ تینوں پارٹیوں میں لوٹ کھسوٹ کی دوڑ جاری ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ صرف ایک وزیر بدعنوان ہے، درحقیقت پوری بی جے پی اتحاد حکومت ہی بدعنوانی میں ملوث ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

پارٹی کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے مزید کہا کہ بی جے پی اتحاد حکومت کی کابینہ بدعنوان اور قاتل ہے، اس میں کسی ایک وزیر کی نہیں بلکہ پوری حکومت کی بات ہونی چاہیے۔ دھننجے منڈے پر جو سنگین الزامات لگ رہے ہیں، وہ یقینی طور پر تشویشناک ہیں، لیکن یہ سب کچھ بی جے پی ہی کر رہی ہے۔ بی جے پی کا اپنا ایم ایل اے روزانہ منڈے کے بدعنوانی کے معاملات کو بے نقاب کر رہا ہے، لیکن وزیر اعلیٰ کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بی جے پی، اجیت پوار کی این سی پی اور ایکناتھ شندے کی شیو سینا کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے؟

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں عوام کے مسائل سب سے اہم ہیں۔ کسانوں کو معاوضے ابھی تک نہیں دیے گئے، سویابین، دھان اور پیاز کے کاشتکار برباد ہو چکے ہیں۔ حکومت نے بنگلہ دیشی خواتین کو رقم دی ہے لیکن ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔ شرڈی میں گزشتہ روز دو افراد کا قتل ہوا، خواتین غیر محفوظ ہیں، پربھنی میں امبیڈکر وادی نظریات کے حامل نوجوان سومناتھ سوریونشی کو پولیس نے قتل کر دیا۔ بدلاپور معاملے میں ملزم اکشے شندے کو فرضی انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ یہ سب سنگین معاملات حکومت چھپا رہی ہے، لیکن بطور اپوزیشن کانگریس ان مسائل پر خاموش نہیں بیٹھے گی اور حکومت کو ان سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ ’ورشا‘ میں بیل کے سینگ دبانے کے شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت کے بیان پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں جادو ٹونے اور توہم پرستی کو بڑھاوا ملا ہے۔ یہ سب جادو ٹونے کے تحت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رجحان ریاست میں بھی داخل ہو چکا ہے؟ کیا بی جے پی کے رہنما نریندر مودی کی طرح آگے آنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں؟ اور کیا فڈنویس کو اس کا علم ہو گیا ہے، اسی لیے وہ ’ورشا‘ میں رہنے کے لیے تیار نہیں؟ ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ نے ریاست میں توہم پرستی کے خلاف قانون بنایا تھا، اگر اس کے باوجود ایسے واقعات ہو رہے ہیں تو یہ شرمناک بات ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو، پھلے اور امبیڈکر کے مہاراشٹر میں ایسے معاملات کا سامنے آنا تشویشناک ہے۔

ریاستی اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ سے متعلق ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر کے اٹھائے گئے نکات پر تبصرہ کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ یہ وہی باتیں ہیں جو کانگریس اور مہا وکاس اگھاڑی پہلے ہی کہہ چکی ہے۔ اس معاملے میں کانگریس نے الیکشن کمیشن سے شکایت بھی درج کرائی ہے۔ الیکشن کمیشن نے جمہوریت کا قتل کر دیا ہے۔ پرکاش امبیڈکر اگر اس معاملے میں عدالت گئے ہیں تو راہل گاندھی نے بھی لوک سبھا میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔ اب جب کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے تو ہمیں امید ہے کہ انصاف ملے گا۔

بی جے پی اتحاد حکومت کے دور میں مسلسل عظیم شخصیات کی توہین کی جا رہی ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین حکومت کی موجودگی میں ہو رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ اگر حکومت ہی عظیم شخصیات کی بے حرمتی کرنے لگے تو پھر راہل سولاپور جیسے لوگ بھی بھونکتے نظر آئیں گے۔ حکومت کی ذہنیت کا اثر عوام پر پڑ رہا ہے، اسی لیے لوگ عظیم شخصیات کی توہین کرنے کی جرات کر رہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ محض فنکار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کے سینگ نکل آئیں ہیں۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading