یمن کے حوثی حوثی ضنگجوؤں نے باب المندب کی آبی گذرگاہ کے دہانے پر واقع اہم جزیرے میون پر قبضہ کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین اور ایک مقامی سرکاری اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حوثیوں نے جزیرہ پیریم، جسے میون بھی کہا جاتا ہے، پر’کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘
سرکاری اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سرکاری فورسز کے انخلا کے ایک روز بعد مسلح حوثی جنگجوؤں کو لے جانے والی کشتیاں میون جزیرے پر پہنچی ہیں۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکاری فورسز جزیرہ میون سے نکل گئی ہیں۔
جزیرہ میون، جسے بعض اوقات باب المندب جزیرہ بھی کہا جاتا ہے، اس آبی گذرگاہ کے وسط میں واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ یمن کے ساحلی شہر ذباب پر بھی حوثیوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ایسی صورت میں باب المندب کی آبی گذرگاہ پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ یہ آبی راستہ سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ ہفتے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی تھی۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے آج دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے درجنوں فضائی حملے کیے ہیں اور حالیہ حملوں میں دو مرتبہ المخا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
المخا کی بندرگاہ بھی حالیہ دنوں میں حوثیوں کے قبضے میں آ چکی ہے۔
آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔
بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔
مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔
سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔
خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔