40 سال سے کم عمر اور بظاہر صحت مند افراد ہارٹ اٹیک کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟

40 سال سے کم عمر افراد میں ہارٹ اٹیک کا بڑھتا ہوا رجحان تشویش کا باعث ہے۔ بعض اوقات بظاہر صحت مند، ورزش کرنے والے یا کم عمر افراد بھی اچانک سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری اور دل کے دورے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک ہی وجہ نہیں بلکہ کئی عوامل مل کر کم عمری میں دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

کم عمری میں ہارٹ اٹیک کی بڑی وجوہات میں غیر متوازن خوراک، مسلسل ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، جسمانی سرگرمی کا فقدان، تمباکو نوشی، موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی شامل ہیں۔ آج کے دور میں نوجوانوں کا طرز زندگی تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ کئی گھنٹے مسلسل بیٹھے رہنا، فاسٹ فوڈ اور تلی ہوئی اشیا کا زیادہ استعمال، میٹھے مشروبات اور بے قاعدہ نیند دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ذہنی دباؤ بھی ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ ملازمت، کاروبار، مالی مسائل، خاندانی ذمہ داریوں اور مسلسل کام کے دباؤ کے باعث جسم میں ایسے ہارمونی اور کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں جو بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو متاثر کرتی ہیں۔ طویل عرصے تک رہنے والا ذہنی دباؤ بالواسطہ طور پر دل کے امراض کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

تمباکو نوشی اور بعض دیگر نشہ آور اشیا کم عمر افراد کے لیے خاص طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ سگریٹ خون کی نالیوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ خون جمنے کے امکانات بھی بڑھا سکتی ہے، جس سے دل تک خون پہنچانے والی شریان میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض افراد کو ہائی بلڈ پریشر، شوگر یا کولیسٹرول کی زیادتی کا علم ہی نہیں ہوتا۔ یہ بیماریاں کئی برس تک واضح علامات کے بغیر رہ سکتی ہیں اور اندر ہی اندر خون کی نالیوں کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ اسی لیے صرف ظاہری طور پر دبلا پتلا یا فٹ نظر آنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ دل مکمل طور پر صحت مند ہے۔

خاندانی تاریخ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر خاندان میں کم عمری میں دل کا دورہ یا دیگر قلبی امراض کا سابقہ موجود ہو تو متعلقہ شخص میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔ بعض افراد میں موروثی طور پر کولیسٹرول کی سطح بہت زیادہ ہونے کی کیفیت بھی پائی جاتی ہے، جس کی تشخیص بروقت ہونا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق کم عمر افراد کو بھی وقتاً فوقتاً بلڈ پریشر، خون میں شوگر اور کولیسٹرول کی جانچ کرانی چاہیے، خاص طور پر اگر وزن زیادہ ہو، خاندان میں دل کی بیماری کا سابقہ ہو، تمباکو نوشی کی عادت ہو یا مسلسل ذہنی دباؤ کا سامنا ہو۔

دل کی حفاظت کے لیے متوازن غذا، روزانہ مناسب جسمانی سرگرمی، پوری نیند، تمباکو نوشی سے پرہیز اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کو اچانک سینے میں دباؤ یا درد، سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈا پسینہ، متلی، چکر یا درد کا بازو، کندھے، کمر یا جبڑے تک پھیلنا محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

کم عمری دل کے دورے سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں ہے، لیکن صحت مند طرز زندگی، خطرے کے عوامل کی بروقت شناخت اور علامات کو نظر انداز نہ کرنا اس خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading