انتخابی عمل کے دوران تشدد، مار پیٹ اور افراتفری تشویشناک، انتخابی کمیشن تماشائی بنا رہا، سخت کارروائی کی ضرورت ہے
ممبئی: این سی پی- ایس پی کی قومی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے مہاراشٹر کی بگڑتی صورتِ حال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والا تشدد، بدعنوانی، خواتین پر حملے اور کسانوں کی خودکشیاں ریاست کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ شیواجی مہاراج اور امبیڈکر کی سرزمین پر انتخابی دن کھلی مار پیٹ اور بدعنوانی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اسے گزشتہ پچاس ساٹھ برسوں کا سب سے سیاہ دن قرار دیا۔
سپریا سولے نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے میں جن علاقوں میں ووٹنگ ہوئی، وہاں دو گروہوں کے درمیان شدید جھگڑے اور بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ انتخابی کمیشن کا فرض تھا کہ ایسے واقعات کا فوراً نوٹس لیتا، لیکن افسوس یہ ہے کہ کمیشن محض تماشائی بنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی جمہوری ساکھ کو مجروح کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ریاست کے نائب وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط بھی لکھا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے کسانوں کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی معاشی حالت بدترین سطح پر جا پہنچی ہے۔ حکومت نے خود اعتراف کیا ہے کہ خزانہ خالی ہے اور متعدد اسکیمیں رکی ہوئی ہیں۔ کسانوں کو تیس ہزار کروڑ روپے کے امدادی پیکیج کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کا کوئی عملی ثبوت دکھائی نہیں دیتا۔ کپاس اور سویابین کی خریداری درست طریقے سے نہیں ہو رہی اور کئی کسانوں نے انہیں فون کرکے مرکزی حکومت کی بے توجہی کی شکایت کی ہے۔
سپریا سولے نے کہا کہ ریاست میں شفاف طرزِ حکمرانی کا کہیں نام و نشان نہیں۔ مقامی انتخابات کے دوران پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں سوال کیا کہ ’نوٹ بندی کے بعد یہ پیسہ آیا کہاں سے؟‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایک وزیر کے گھر سے نقدی کے بیگ برآمد ہوئے لیکن اس کی کوئی جانچ نہیں ہوئی، اور اب صورت حال یہ ہے کہ جو لوگ بدعنوانی بے نقاب کر رہے ہیں، انہی کے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے نلیش رانے کی تعریف کی جنہوں نے مبینہ طور پر ووٹروں میں تقسیم کیے جانے والے روپے پکڑے تھے۔ سپریا سولے کے مطابق انہوں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں وزیر نارائن رانے سے ملاقات کے دوران ان کے بیٹے کی ہمت اور کارروائی کی تعریف بھی کی، لیکن بعد میں نلیش رانے پر ہی مقدمہ درج کر دینا انتہائی افسوس ناک اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
سپریا سولے نے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی درخواست بھی کی ہے تاکہ مہاراشٹر کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت شفاف اور کرپشن فری بھارت کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاست میں بدعنوانی اور پیسے کا بے تحاشا استعمال کھلے عام جاری ہے۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ مہاراشٹر کی جمہوری ساکھ بچانے کے لیے فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے، کیونکہ مسلسل بڑھتی ہوئی افراتفری، تشدد اور مالی بے ضابطگیوں نے عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد مجروح کر دیا ہے۔
NCP-SP Urdu News 3 Dec. 25.docx
