ورشا گائیکواڑ کی نیتن گڈکری سے ملاقات، عقیدت مندوں کو مالی ریلیف دینے کا بھی مطالبہ
نئی دہلی: ممبئی کانگریس کی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا ایکناتھ گائیکواڑ نے مہا پرینروان دن کے موقع پر ملک بھر سے ممبئی آنے والے لاکھوں عقیدت مندوں کی گاڑیوں کو ٹول فری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے آنے والوں میں بڑی تعداد عام اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی ہوتی ہے اس لیے ان پر سفر کا اضافی مالی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر برائے سڑک و شاہراہ نتن گڈکری سے ملاقات کرکے اس سلسلے میں تفصیلی مکتوب بھی پیش کیا ہے۔
ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ 6 دسمبر کو ڈاکٹر امبیڈکر کے مہا پرینروان دن کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے لاکھوں لوگ ممبئی کی چیتیہ بھومی آتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر مزدور، ملازمین، کسان اور کم آمدنی والے شہری شامل ہوتے ہیں جن کے لیے ٹول چارجز ایک اضافی اور غیر ضروری بوجھ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر ایک دن کے لیے ٹول معاف کردے تو یہ نہ صرف عقیدت مندوں کے لیے مالی راحت کا سبب ہوگا بلکہ یہ ان کی جذباتی وابستگی اور عزتِ نفس کا بھی احترام ہوگا۔
ورشا گائیکواڑ نے اس مقصد کے لیے نیتن گڈکری کو ایک باضابطہ درخواست پیش کی جس میں واضح کیا گیا کہ مہا پرینروان دن پر ٹریفک پہلے ہی غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے، ایسے میں ٹول فری سہولت نہ صرف عوام کو راحت دے گی بلکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس ملاقات کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ ڈاکٹر کلیان کالے، شیو جی راؤ کالگے، رویندر چوہان اور بلونت وانکھڑے بھی موجود تھے، جنہوں نے اس مطالبے کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ملک کے عظیم ترین رہنماؤں میں سے ہیں اور ہر سال ان کے عقیدت مند اپنی محبت اور احترام کے اظہار کے لیے بڑی تعداد میں چیتیہ بھومی پہنچتے ہیں۔ ان کی مالی مشکلات کو کم کرنا حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکز اس معاملے پر حساسیت کے ساتھ غور کرے گا اور جلد ہی مثبت فیصلہ سامنے آئے گا۔