وزیر اعظم مودی کی جانب سے کسانوں سے کیے گئے 16 وعدوں کا کیا ہوا؟: ہرش وردھن سپکال
ایوت محل کے آرنی سے شروع ہونے والی کسان جدوجہد کی آواز ممبئی کے راستے دہلی تک پہنچائی جائے گی
وزیر اعظم مودی کو کسانوں سے کیے گیے وعدوں کی یاد دلانے کے لیے ایوت محل کے دابھڑی میں کانگریس کی ’کسان سمان پدیاترا‘
ایوت محل/ممبئی: وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں ایوت محل ضلع کے دابھڑی گاؤں میں ’چائے پر چرچا‘ کے دوران کسانوں سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کسانوں کی آمدنی دگنی کی جائے گی، کسانوں کا قرض معاف کیا جائے گا، فصل کی لاگت کا ڈیڑھ گنا ایم ایس پی دیا جائے گا، ہر کھاتے میں 15 لاکھ روپے ڈالے جائیں گے، ہر سال 2 کروڑ روزگار دیے جائیں گے۔ لیکن ان 11 برسوں میں ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ آج کسانوں کی حالت نہایت خراب ہے۔ اسی وجہ سے کانگریس پارٹی نے کسانوں کے احترام میں پدیاترا کا آغاز کیا ہے اور اس یاترا کی گونج آرنی سے ممبئی ہوتے ہوئے دہلی تک پہنچائی جائے گی۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابی مہم میں جو وعدے کیے تھے، ان کی یاد دہانی کے لیے کانگریس ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں ایوت محل ضلع کے دابھڑی میں واقع اونکاریشور مندر سے ’کسان سمان پدیاترا‘ شروع کی گئی۔ اس پدیاترا کا اختتام زرعی منڈی کمیٹی (اے پی ایم سی) میں ایک اجلاس کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر سابق وزیر و ریاستی کارگزار صدر شیواجی راؤ موگھے، سابق ریاستی صدر مانک راؤ ٹھاکرے، کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن و ریاستی کارگزار صدر و رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے، رکن پارلیمنٹ پرتِبھا دھانورکر، سابق وزیر انیس احمد، مہلا کانگریس ریاستی صدر سندھیا سوالاکھے، سابق وزیر وسنت پورکے، ایم ایل اے راجیش راٹھوڑ، ایم ایل اے انل مانگولکر، ریاستی نائب صدر موہن جوشی، ضلع کانگریس صدر پرفل مانکر، سچن نائک کے علاوہ بڑی تعداد میں کسان موجود تھے۔
ہرش وردھن سپکال نے اس موقع پر کہا کہ کسان کو ’انّ داتا‘ کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لاکھوں مر جائیں لیکن انّ داتا زندہ رہنا چاہیے۔ لیکن آج اسی انّ داتا کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ آج چنا، کپاس، سویا بین، ارہر، پیاز جیسی کسی بھی فصل کو مناسب قیمت نہیں مل رہی، جس کی وجہ سے کسان کی آنکھوں میں آنسو ہیں، اسے اپنی محنت کی کمائی نہیں مل رہی۔ سویا بین تیل کی قیمت 165 روپے فی لیٹر ہے، لیکن سویا بین کی قیمت صرف 35–40 روپے فی کلو مل رہی ہے۔ تیل کی قیمت کے حساب سے سویا بین کو 9000 روپے فی کوئنٹل قیمت ملنی چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ بیچ کا سارا منافع کون کھا رہا ہے؟ اڈانی کھا رہا ہے۔ بی جے پی نے ’ہر گھر ترنگا‘ مہم چلائی، لیکن اس کے لیے جھنڈے پولسٹر کے بنوائے اور وہ پولسٹر چین سے منگوایا۔ بی جے پی حکومت صرف اڈانی اور امبانی کا بھلا کر رہی ہے۔ آج اس حکومت سے سوال کرنا ضروری ہے۔ اگر آج سوال نہ کیا گیا تو مستقبل بہت مشکل ہو گا۔ کانگریس پارٹی کسانوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس جدوجہد میں سب کو شامل ہونا چاہیے۔
اس موقع پر گوا کانگریس کے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے، سابق وزیر شیواجی راؤ موگھے، وسنت پورکے، رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے اور رکن پارلیمنٹ پرتِبھا دھانورکر نے بی جے پی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں پر سخت حملے کیے۔