ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان میں، امریکی وفد کی بھی اسلام آباد آمد کا اعلان تاہم مذاکرات پر ابہام برقرار

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ اسلام آباد سے متعلق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘ ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد سنیچر کو اسلام آباد روانہ ہو گا مگر پاکستانی اور ایرانی حکام کے مطابق عراقچی صرف پاکستان کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

منگل کو پاکستان میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران نے اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی پر برہم ہو کر یہ عندیہ دیا کہ وہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں۔

اس کے بعد پاکستان کی درخواست پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی تاکہ ایران کو تنازع کے خاتمے کے لیے اپنا منصوبہ پیش کرنے کے لیے مزید وقت دیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ اس کے بعد ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں مذاکرات کی جانب ’کچھ پیش رفت‘ ہو رہی ہے۔

سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج واشنگٹن سے پاکستان روانہ ہونے والے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ وہاں سے کیا حاصل کر سکیں گے اور کیا نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستانی دارالحکومت پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی حکومت نے واضح کر دیا کہ وہ صرف پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے لیے آئے ہیں اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔

لہٰذا یہ لگ رہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی بات چیت پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ہی پہنچائی جائے گی جس کے باعث کسی فوری پیش رفت کا امکان انتہائی کم ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کی کوئی جلدی نہیں تاہم پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی منظوری کی شرح میں کمی کے ساتھ،کسی معاہدے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز بھی ریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔

اعلامیے میں دی گئی تفصیل کے مطابق اسلام آباد میں ہر قسم کی میٹرو سروس معطل ہے جبکہ سکیورٹی اقدامات کے تحت تمام ٹریلز بھی بدستور بند ہیں۔

اسلام آباد کی جانب بند ہے جبکہ دیگر تمام موٹر ویز کھلی ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی روز سے امن مذاکرات کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق مارگلہ روڈ فیصل چوک سے ٹریل تھری تک ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔

اسلام آباد کی سری نگر ہائی وے کشمیر چوک، کلب روڈ سے زیرو پوائنٹ تک بند ہے۔
ایکسپریس وے کورال سے زیرو پوائنٹ تک وی آئی پی موومنٹس کے دوران ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گا۔

مختلف اوقات میں سری نگر ہائی وے پر بھی ٹریفک روکی جا سکتی ہے۔ کسی بھی سمت یا کسی بھی ہائی وے سے اسلام آباد میں داخل ہونے والی ہر قسم کی بھاری ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا۔
G5، G6 اور G7، F6، F7 کے رہائشی مارگلہ روڈ سے راولپنڈی جانے کے لیے 9th ایونیو استعمال کریں۔ فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے والی ٹریفک کو 9th ایونیو کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
۔ پارک روڈ اور کلب روڈ کی بندش کی صورت میں ٹریفک کو ترنمی چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق جڑواں شہروں میں ہیوی ٹریفک کے داخلے کی اجازت نہیں۔ جی ٹی روڈ سے اسلام آباد میں داخلے پر ون لین ٹریفک کے باعث ٹریفک جام کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی حکام پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں تاہم تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کا کوئی منصوبہزیر غور نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی مذاکرات کار بھی دارالحکومت اسلام آباد آنے کا اعلان کر چکے ہیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading