حیرت کی بات ہے کہ کئی وزراء نے ابھی تک اپنا عہدہ نہیں سنبھالا: سپریا سُلے
پونے: ریاست کے عظیم لیڈروں نے مہاراشٹر میں انقلابی تبدیلیاں کیں جن کا ذکر نئی نسل کے سامنے آنا چاہیے اور ان کے اصول و اقدار آئندہ نسلوں تک پہنچنے چاہئیں۔ کانگریس نے اپنی مدت کار کے دوران ایسے کئی منصوبے ریاست میں شروع کیے، جو آج بھی جاری ہیں۔ یہ دن مہاراشٹر اور پورے ملک میں انقلابی اور سماجی تبدیلی کا دن ہے۔ کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھولے نے جو تعلیم کا سفر ناانصافی کے خلاف شروع کیا تھا، اسی کی بدولت مجھ جیسی بے شمار لڑکیاں تعلیم حاصل کر سکیں۔ اگر ان کی کوششیں نہ ہوتیں، تو ہم آج یہاں کھڑے نہ ہوتے۔ شاہو، پھولے اور امبیڈکر کا اس سب میں بہت بڑا کردار ہے۔ ان الفاظ میں سپریا سُلے نے ساوتری بائی پھولے کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پونے میں ساوتری بائی پھولے کی جینتی کے موقع پر ان کی یادگار پر احتراماً پھول چڑھانے کے بعد، سپریا سلے نے میڈیا سے گفتگو کی۔
سپریا سُلے نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کو ڈیڑھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن حکومت اب تک ایکشن موڈ میں نہیں آئی ہے۔ مہاراشٹر کے عوام کو اس حکومت سے بہت سی توقعات تھیں، لیکن گزشتہ روز ہوئی کابینہ کی پہلی میٹنگ کے دوران یہ خبریں آئیں کہ کئی وزراء نے ابھی تک اپنا عہدہ سنبھالا نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے تمام وزراء کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوراً اپنی ذمہ داریاں سنبھال کر کام شروع کریں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ اکیلے ہی ایکشن موڈ میں ہیں، جبکہ باقی وزراء کہیں نظر نہیں آ رہے۔
ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر سپریا سلے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو ایک ٹویٹ کے ذریعے سوال کیا کہ مہاراشٹر میں روز بروز قتل اور دیگر جرائم کی خبریں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے پیچھے معیشت کا ایک پہلو بھی ہو سکتا ہے، جس پر بدقسمتی سے زیادہ بحث نہیں ہوتی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے مرحوم لیڈر آر آر پاٹل نے بطور نائب وزیر اعلیٰ گڈچرولی ضلع کو گود لے کر وہاں کام کیا تھا۔ دیویندر فڈنویس کا گڈچرولی کے لیے کام کرنا اچھی بات ہے۔ سپریا سُلے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نکسل ازم اور دہشت گردی کے خلاف تمام پارٹیاں متحد ہیں۔
بیڑ واقعے پر بات کرتے ہوئے سپریا سُلے نے کہا کہ حکومت نے اس کی تفتیش کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے، لیکن اس واقعے کی وجوہات، خاص طور پر مالی پہلوؤں، کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ واقعہ انسانیت اور نفسیاتی خرابی کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ محض بیڑ تک محدود نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے، اور اس واقعے کی وجوہات پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے۔
سپریا سُلے نے کہا کہ حکومت میں اخلاقیات کا ہونا ضروری ہے۔ شرد پوار صاحب کے دور میں جن وزراء پر الزامات لگے، انہوں نے فوراً استعفیٰ دے دیا۔ لیکن موجودہ حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا وہ ایسی روایات کو برقرار رکھنا چاہتی ہے یا نہیں۔ سپریا سُلے نے کہا کہ ’لاڈکی بہن یوجنا‘ محض انتخابی حربہ تھا۔ ان کے پاس آر بی آئی کی ایک رپورٹ ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست کو ملنے والے فنڈز اور اخراجات میں بڑا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال میں کئی ایسے معاملات سامنے آئیں گے، جن کی نشاندہی وہ پہلے ہی کر چکی ہیں۔
NCP-SP Urdu News 3 January 25.docx