مرکزی حکومت کے عام بجٹ میں مہاراشٹرا کے ساتھ ناانصافی کیوں؟
این سی پی-ایس پی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے کا سوال
نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیا۔ مہاراشٹر کے لیے اس بجٹ میں کوئی ٹھوس اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اقتدار بچانے کے لیے آندھرا پردیش اور بہار خوب سارا فنڈ دیا گیا ہے مگر مہاراشٹر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ جب بہار سگا ہے، آندھرا پردیش سگا ہے تو مہاراشٹر سوتیلا کیوں ہے؟ یہ سوال این سی پی-ایس پی کی کارگزار صدر رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کیا ہے۔
این سی پی-ایس پی کی کاگزار صدر سپریا سولے نے کہا کہ میں کل ایوان میں اس بجٹ کے بہت سے نکات بات کرنے والی ہوں لیکن لیکن یہ ملک کے بجٹ کا ہے، کسی ریاست کے بجٹ کا نہیں۔ ہم نے ملک کے بجٹ سے یہ توقع کی کہ ہر ریاست کو مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ ہمیں آندھرا پردیش اور بہار کو بھرپور فنڈز ملنے پر افسوس نہیں ہے، یہ ہر ریاست کا حق ہے لیکن مہاراشٹر کے ساتھ ناانصافی کیوں؟ بہار اور آندھرا پردیش اگر مرکزی حکومت کے سگے ہیں تو مہاراشٹر سوتیلا کیوں؟
سپریا سولے نے مزید کہا کہ یہ سب اقتدار کو بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے 2014 میں بھی ایسا ہی فنڈ طلب کیا تھا لیکن اس وقت کی مودی حکومت نے نہیں دیا۔ وہ تمام چیزیں اب دی گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے یہ چیزیں فراہم کرنے میں دس سال صرف کئے۔ اس لیے میں یہ کہوں گی کہ آندھرا پردیش اور بہار کو جو کچھ ملا ہے اس کا کریڈٹ ملک کی عوام کو جاتا ہے۔ جب بی جے پی کے پاس 300 سیٹیں تھیں تو اس نے بہار اور آندھرا پردیش کی مدد کرنے کا نہیں سوچا اور 300 سے 240 تک پہنچ گئی تو بہار و آندھرا کو دینا شروع کر دیا۔ اسے کہتے ہیں عوام کی طاقت۔
سپریا سولے نے کہا کہ پہلے مودی حکومت تھی، اب این ڈی اے حکومت بن گئی ہے۔ این ڈی کے بہت سے اتحادی ہیں۔ مہاراشٹر کے دو گروپ بھی اس کے ساتھ ہیں۔ کیا مودی حکومت کو بجٹ پیش کرنے سے پہلے ان دونوں گروپوں سے نہیں پوچھنا چاہیے تھا؟ بدقسمتی سے میری ان کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات نہیں ہوئی۔ مگر میرا ایک سوال ہے، کیا آپ دو ریاستوں کو اتحادی قرار دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر مہاراشٹرا نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟ مہاراشٹر کے حصے میں کچھ کیوں نہیں آیا؟
این سی پی- کی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ٹیکس میں کوئی اصلاحات نہیں ہوئے ہیں۔ صرف غیر ملکی کمپنیوں کے ٹیکس 30 سے 25 پر آگئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی میں 50 فیصد اضافہ کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ 10 سال میں اسے دوگنا کر دیں گے۔ دوسری چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ زمینی اصلاحات تھی۔ زمین ریاست کا موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام لینڈ ریفارمز کو ڈیجیٹلائز کریں گے۔ لیکن ریاست کے اس معاملے میں مرکز کیوں مداخلت کر رہا ہے؟ دراصل ریاستی اسکیموں کی نقل کی گئی ہے اور کانگریس کے پلان کو کاپی پیسٹ کیا گیا ہے۔