منصوبہ بندی اور دور اندیشی سے عاری بجٹ، عام آدمی کو سخت مایوسی ہوئی: نانا پٹولے

ایک کروڑ نوجوانوں کو انٹرن شپ دینے کا اعلان کانگریس کے نیائے پتر سے لیا گیا ہے

مودی حکومت کے پاس ٹھوس روزگار کے لیے کوئی پالیسی نہیں

بہار اور آندھرا پردیش کو دل کھول کر فنڈز فراہم کیے گئے لیکن سب سے زیاد ٹیکس ادا کرنے والے مہاراشٹراکو نظر انداز کیا گیا

بجٹ سے یہ واضح ہے کہ مہاراشٹر کے تئیں مودی حکومت کی نفرت اب بھی برقرار ہے اور شندے-فڑنویس-اجیت پوار کی مرکز میں کوئی اعتبار نہیں

ممبئی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی طرف سے پیش کیے گئے عام بجٹ میں بڑے بڑے اعداد و شمار اور پرکشش نعروں کے علاوہ کوئی منصوبہ بندی و دور اندیشی نہیں ہے۔ پچھلے 10 سالوں سے مودی حکومت کا بجٹ عوامی مفاد کے بجائے صرف ہیڈ لائن مینجمنٹ کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ آج جب ملک میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، حکومت کے پاس نوجوانوں کو مستقل روزگار فراہم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔ بجٹ میں کسانوں کو ریلیف دینے کی ایک بھی اسکیم نہیں ہے۔ مہنگائی کے مارے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا کوئی انتظام نہیں۔ این ڈی اے حکومت کے بجٹ نے کسانوں، خواتین، نوجوانوں، طلباء، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سمیت تمام طبقات اور عام لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ اس سے صاف ہے کہ شندے-فڑنویس-اجیت پوار کی مرکز میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ مرکز میں اپنی حکومت کو بچانے کے لیے بی جے پی نے صرف بہار اور آندھرا پردیش کو بھاری فنڈز دیے ہیں اور مہاراشٹر کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

مرکزی بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ملک کی زیادہ تر آبادی زراعت پر منحصر ہے، لیکن اس بجٹ نے کسانوں اور زراعت کے شعبے پر انحصار کرنے والے زیادہ تر لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ زرعی پیداوار کی ایم ایس پی ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن وزیر خزانہ نے اسے قانونی ضمانت دینے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ زرعی اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد عائد کی گئی ہے۔ اب تک کا تجربہ یہ رہا ہے کہ زراعت کے شعبے کے لیے بھلے ہی چند کروڑ روپے کے اعداد و شمار کا اعلان کیا گیا ہو ،کسانوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔ پٹولے نے کہا کہ حکومت نے مردم شماری کے لیے بجٹ میں کوئی فنڈ مختص نہیں کیا۔ مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً 12 کروڑ لوگ غذائی تحفظ سے محروم ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں معاشی عدم مساوات بہت زیادہ ہے۔ اس کے سدباب کے لیے حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے بلکہ حکومت اس طرف توجہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ روزگار پیدا کرنے پر زور دینے سے بے روزگاری ختم ہونے کی امید کی جا سکتی ہے لیکن اس پر کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔ پانچ سالوں میں ایک کروڑ نوجوانوں کو 500 کمپنیوں میں انٹرن شپ کے مواقع اور 5000 روپے ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کانگریس کے نیائے پتر سےکی گئی نقل ہے۔ ہم نے کہا تھا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی تو وہ ڈپلومہ ہولڈرز اور گریجویٹس کو پہلی نوکری کی ضمانت دےگی اور اپرنٹس شپ کے ذریعے 8500 روپے ماہانہ دے کر مرکز کے مختلف محکموں میں 30 لاکھ خالی آسامیوں پر بھرتی کرکے بے روزگاری دور کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن این ڈی اے کے بجٹ میں ان 30 لاکھ اسامیوں کو بھر کر نئی ملازمتیں دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ پٹولے نے کہا کہ مدرا یوجنا جیسی ناکام اسکیم کی فنڈنگ میں اضافہ کرنے سے روزگار پیدا نہیں ہوگا، پھر بھی حکومت اسی ناکام اسکیم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ این ڈی اے حکومت کے پاس مستقل روزگار فراہم کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ این ڈی اے حکومت کے پاس ملک میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کو کم کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اس بجٹ نے واضح کر دیا ہے کہ مہاراشٹر کے تئیں این ڈی اے حکومت کا رویہ کیا ہے۔ مہاراشٹر ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن بی جے پی حکومت ریٹرن دیتے وقت اس کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے۔ بہار اور آندھرا پردیش کو 40 ہزار کروڑ روپے کا فنڈ دیتے وقت مہاراشٹر کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ ایک بار پھر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بی جے پی اور گجرات لابی مہاراشٹر پر نظریں گاڑے ہوئے ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور دیگر وزراء وزیر اعظم کی تعریفیں کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مہاراشٹر سے زیادہ اپنی کرسی کی فکر ہے۔ پٹولے نے کہا کہ انکم ٹیکس میں معمولی تبدیلی کرنے سے متوسط طبقے کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گزشتہ 10 سالوں میں صحت اور تعلیم بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ یہ تمام سہولیات عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ اس لیے توقع تھی کہ صحت اور تعلیم جیسے دو اہم شعبوں کے لیے کچھ ٹھوس اعلانات کیے جائیں گے لیکن عوام کو مایوسی ہوئی۔ وزیر خزانہ کی تقریر کے بعد اسٹاک مارکیٹ بھی گر گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بجٹ نے صنعتی شعبے کو بھی مایوس کیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کا عام بجٹ پوری طرح سے مایوس کن ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading