ریاستی نرسوں کے احتجاج کو این سی پیِ-ایس پی کی حمایت
حکومت نے اگر مطالبات تسلیم نہ کیے تو تحریک تیز کی جائے گی: ششی کانت شندے کا انتباہ
ممبئی: ریاست کے شہری و دیہی علاقوں میں صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی نرسوں کے دیرینہ مطالبات پر مبنی احتجاج کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی طرف سے مکمل حمایت کی گئی ہے۔ ممبئی کے تاریخی احتجاجی مقام آزاد میدان میں جاری دھرنے کے دوران پارٹی کے ریاستی صدر و رکن اسمبلی ششی کانت شندے اور سینئر لیڈر جینت پاٹل نے احتجاجی مقام پر پہنچ کر مظاہرہ کرنے والی نرسوں سے ملاقات کی اور ان کی تحریک کو بھرپور حمایت دینے کا اعلان کیا۔
ریاست بھر کی نرسیں، جن میں ہیڈ نرس، اسٹاف نرس، ٹیوٹر اور دیگر مختلف سطح کی طبی خواتین ملازمین شامل ہیں، متعدد برسوں سے تنخواہوں میں عدم مساوات، ترقیاتی مواقع کی کمی، طویل التواء میں پڑے ہوئے الاؤنسز اور کنٹریکٹ بھرتی کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ آزاد میدان میں نرسوں کی نمائندہ تنظیم کی قیادت میں جاری اس تحریک میں اب باضابطہ طور پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد پوار گروپ بھی شامل ہو گئی ہے۔ ششی کانت شندے نے اس موقع پر کہا کہ نرسیں ریاستی صحت کے نظام کی بنیاد ہیں، اور ان کے حقوق کے لیے جاری اس جدوجہد میں ہم قدم بہ قدم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو سخت لہجے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نرسوں کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم نہ کیا گیا تو ان کی پارٹی ریاست گیر تحریک میں شدت لائے گی اور حکومت کے خلاف زور دار احتجاج کیا جائے گا۔
نرسوں کی اہم مانگوں میں یہ شامل ہے کہ تمام کنٹریکٹ پر رکھی گئی نرسوں کو فوری طور پر مستقل کیا جائے، اور تقریباً 50 فیصد سے زائد خالی ترقیاتی عہدوں کو جلد از جلد ترقی دے کر پُر کیا جائے۔ ساتھ ہی گزشتہ 40 برس سے زیر التوا الاونسز کی منظوری دی جائے اور تنخواہوں کی بے ضابطگیاں فوری ختم کی جائیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر ان مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو ریاستی حکومت کو اس کا سخت سیاسی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ نرسوں نے حکومت سے صاف کہا ہے کہ وہ خالی وعدوں پر یقین نہیں رکھتیں، اور جب تک باضابطہ احکامات جاری نہیں ہوتے، احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ پارٹی کی حمایت ملنے کے بعد تحریک میں نیا جوش پیدا ہوا ہے، اور آزاد میدان کا احتجاج اب ریاست بھر میں ایک علامتی جدوجہد بنتی جا رہی ہے۔
NCP-SP Urdu News 21 July 25.docx