MPCC Urdu News 21 July 25

ہر روز چھ کسان خودکشی کر رہے ہیں اور وزیر اسمبلی میں رَمی کھیل رہے ہیں: ہرش وردھن سپکال

حکومت ہنی ٹریپ کیس میں عوام کو گمراہ کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ نے ایوان میں جھوٹ بولا، اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے

ممبئی: ریاست میں کسانوں کی حالت زار اور وزراء و حکومتی عہدیداروں کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر کانگریس نے سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی کو شرمناک قرار دیا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ جب ریاست میں روزانہ چھ کسان خودکشی کر رہے ہوں، تب اسمبلی میں بیٹھا وزیر زراعت آن لائن رَمی کھیل رہا ہو تو یہ تصویر نہ صرف مہاراشٹر بلکہ جمہوری نظام کے لیے باعثِ شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج صرف اراکین اسمبلی ہی نہیں بلکہ وزراء اور حکومتی عہدیدار بھی بدمعاشی پر اُتر آئے ہیں اور وزیر اعلیٰ یا دونوں نائب وزرائے اعلیٰ ان پر کوئی لگام نہیں لگا پا رہے ہیں۔

ہرش وردھن سپکال نے اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے کی جانب اشارہ کلرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہنگامہ کے بعد وزیر اعلیٰ نے خود کہا کہ ایم ایل اے بدمعاش بن گئے ہیں، مگر کیا وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ صرف اراکین اسمبلی نہیں بلکہ ان کے وزیر اور پارٹی کے عہدیدار بھی بدمعاشی پر اُترے ہوئے ہیں؟ ایک جانب وزیر زراعت کسانوں کو ’بھکاری‘ قرار دیتے ہیں، تو دوسری جانب ان پر یہ الزام ہے کہ وہ قرض معافی کی رقم سے کسان بیٹوں کی شادیاں کراتے ہیں، اور اب تو یہ حال ہے کہ وہ اسمبلی میں بیٹھ کر رَمی کھیل رہے ہیں۔ سپکال نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب اس واقعے کے خلاف چھاوا تنظیم نے لاتوُر میں این سی پی (اجیت پوار گروپ) کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے کو علامتی طور پر پتے کا سیٹ سونپا تو اجیت پوار کے غنڈوں نے ان احتجاجیوں کو بری طرح پیٹ ڈالا۔ سوال یہ ہے کہ یہ گھمنڈ آیا کہاں سے؟ صرف اس لیے کہ یہ لوگ اقتدار میں ہیں؟ مگر اقتدار کا نشہ دیرپا نہیں ہوتا۔ اگر وزیر اعلیٰ کو واقعی حالات کا احساس ہے تو وہ وزیر زراعت کو گھر بھیجیں اور ان بدمعاش پارٹی عہدیداروں کو جیل میں ڈالیں۔

ہرش وردھن سپکال نے ہنی ٹریپ معاملے پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کچھ وزراء اور اعلیٰ افسران ہنی ٹریپ کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ کانگریس نے یہ سنگین معاملہ اسمبلی میں اٹھایا تھا، مگر وزیر اعلیٰ نے کسی رانا بھیما دیوی کے انداز میں اعلان کیا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ لیکن جیسا کہ ان کی عادت ہے، وہ ایک بار پھر بے شرمی سے جھوٹ بول گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ہنی ٹریپ اسکینڈل کے تار بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہائی قریبی حلقے سے جُڑے ہوئے ہیں، اور اس کیس سے جڑے افراد کی تصاویر بی جے پی کے اہم وزراء کے ساتھ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس سے اس معاملے کی سنگینی اور بھی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس پورے کیس کو دبا رہی ہے، مگر کانگریس کی مانگ ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی عدالتی تفتیش کروائی جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔ سپکال نے یہ بھی واضح کیا کہ اب محض رسمی مذمت یا بیان بازی کافی نہیں، حکومت کو اپنی صفوں میں موجود بدمعاشوں اور جھوٹے وزراء کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

MPCC Urdu News 21 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading