ریاستی وزیر زراعت مانک راؤ کوکاٹے استعفیٰ دیں: مہیش تپاسے

’لاڈکی بہن یوجنا‘ محض انتخابی چال تھی، اب حکومت مستحق خواتین کی تعداد کم کرنے کے درپے

بی جے پی کے لیے ایکناتھ شندے کی اہمیت ختم ہو چکی ہے

ممبئی: این سی پی شرد چندر پوار کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے ریاستی وزیر برائے زراعت مانک راؤ کوکاٹے کے خلاف ناسک سیشن کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو چاہیے کہ وہ فوراً ان کا استعفیٰ لیں۔ پارٹی دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تپاسے نے کہا کہ اب اجیت پوار یہ نہیں کہہ سکتے کہ جرم ثابت ہونے دیں، کیونکہ عدالت نے کوکاٹے کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں سزا دے دی ہے۔ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو چاہیے کہ وہ اخلاقی بنیادوں پر فوری طور پر کوکاٹے سے استعفیٰ طلب کرے۔

مہیش تپاسے نے مزید کہا کہ شندے حکومت کی ’لاڈکی بہین یوجنا‘ دراصل خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے نہیں، بلکہ صرف انتخابات جیتنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اب ریاستی حکومت اس اسکیم کے تحت بہنوں کی تعداد کم کرنے کے لیے نئے نئے معیار متعارف کر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکومت نے لاڈکی بہنوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی فائدے کے لیے شروع کی گئی اس اسکیم کے لیے ہر سال 45 ہزار کروڑ روپے کہاں سے آئیں گے، یہ سوال اب اجیت پوار کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران جو لوگ بڑے بڑے وعدے کر رہے تھے، وہی اب سخت شرائط لگا کر مستحق بہنوں کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مہیش تپاسے نے یہ بھی الزام لگایا کہ حقیقت میں حکومت کو لاڈکی بہنوں کی فکر نہیں ہے۔ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لڑکیاں اور خواتین بڑی تعداد میں لاپتہ ہو رہی ہیں، لیکن حکومت اس معاملے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہی۔

ریاست میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تپاسے نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے موجودہ حکومت کے پاس کوئی وژن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابا صدیقی اور سیف علی خان کے معاملے کے بعد عام شہری خوفزدہ ہیں اور اب براہ راست نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو دی جانے والی دھمکی کو ریاستی حکومت کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سماج میں آزاد گھومنے والے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ان پر قابو پائے۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ قانون کے نفاذ کے معاملے میں ریاست کا داخلہ محکمہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہری، صنعت کار اور یہاں تک کہ حکومتی عہدیدار بھی خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر کو خوف سے آزاد کرنے میں موجودہ حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں شرد پوار صاحب کے اصرار پر ادھو ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا، اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ بالکل درست تھا۔ آج قومی سطح پر ادھو ٹھاکرے کی قیادت کو سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکناتھ شندے کی طرف سے منظور شدہ ٹھیکوں کو اب بی جے پی روک رہی ہے اور تحقیقات کا حکم دے رہی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کے لیے ایکناتھ شندے کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading