سنجے راوت کے متضاد بیانات پر این سی پی شرد چندر پوار کی سخت تنقید
ممبئی: شیوسینا-یو بی ٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت کی حالیہ سرگرمیوں پر ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ایک کتابی نمائش میں شرکت کی، جس پر این سی پی شردچندر پوار نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس سے قبل جب شرد پوار نے دہلی میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے ایوارڈ تقریب میں شریک ہوئے تھے تو سنجے راوت نے اس پر شدید تنقید کی تھی۔ مگر اب این سی پی- ایس پی کی جانب سے ایم این ایس کے پروگرام میں سنجے راؤت کی شرکت پر ان کی سیاسی وابستگی اور موقف پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
این سی پی شرد پوار کے ترجمان اور ممبئی یوتھ ونگ کے صدر ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے سنجے راؤت کے اس رویے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنجے راؤت خود کو ایک سیاسی تجزیہ کار کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کے متضاد بیانات ان کی سیاسی دیانتداری پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ اگر سیاسی اختلافات ہیں تو کھل کر اور مضبوطی کے ساتھ مخالفت کرنی چاہیے، لیکن ایک طرف کسی کو غدار کہنا اور دوسری جانب انہی کے حامیوں کے پروگرام میں شرکت کرنا، یہ سیاسی اصولوں کے منافی ہے۔
امول ماٹیلے نے مزید کہا کہ ایسے لیڈروں کو اصول پسندی اور سیاسی اخلاقیات پر بیانات دینے سے پہلے خود اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ سنجے راوت کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے بیانات اور اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے سیاسی کارکنوں اور عوام میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے مہایوتی کو غیر مشروط حمایت دی ہے۔ ایسے میں سنجے راوت کی جانب سے اس تقریب میں شرکت کو بالواسطہ طور پر مہایوتی سے قربت پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ایک جانب وہ مہایوتی کے خلاف سخت بیانات دیتے ہیں اور دوسری جانب انہی کے اتحادیوں کے پروگرام میں شریک ہوتے ہیں۔ شیوسینا کے کئی کارکن بھی اب اس دوہرے رویے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
