گیارہویں جماعت کے داخلہ عمل میں بدنظمی پر نیشنلسٹ یوتھ کانگریس وفد کی وزیر تعلیم سے ملاقات

ممبئی اور ایم ایم آر کے لیے علیحدہ آن لائن داخلہ نظام قائم کرنے کا مطالبہ

ممبئی: 18 جون 2025

مہاراشٹر میں گیارہویں جماعت کے آن لائن داخلہ عمل میں جاری تکنیکی خرابیوں اور انتظامی بدنظمی کے خلاف نیشنلسٹ یوتھ کانگریس (شرد چندر پوار) کے ایک وفد نے وزیر تعلیم دادا بھوسے سے ملاقات کی اور فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اس وفد کی قیادت ممبئی کے صدر ایڈوکیٹ امول ماتیلے نے کی، جبکہ جنرل سیکریٹری روہت ساونت، عمران تڈوی، سیکریٹری ویبھَو پانچال اور سنکیت واڈیکر اس وفد میں موجود تھے۔ ملاقات کے دوران داخلہ عمل سے جڑے مسائل، طلبہ اور والدین کو درپیش دشواریوں اور ممکنہ اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وفد نے واضح کیا کہ 7 جون سے جاری داخلہ عمل ابتدا ہی سے شدید تکنیکی مشکلات کا شکار ہے۔ ایک ہی نجی کمپنی کو ریاست بھر کی مکمل ذمہ داری سونپے جانے سے نہ صرف ویب سائٹ اکثر کریش ہوتی رہی بلکہ فارم بھرنے کے عمل میں بھی تاخیر اور معلومات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مسائل نے نہ صرف طلبہ بلکہ والدین کو بھی ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا ہے، اور اس عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ وفد نے وزیر تعلیم کو تجویز پیش کی کہ ممبئی اور ایم ایم آر جیسے گنجان آباد اور تعلیمی لحاظ سے حساس علاقوں کے لیے ایک علیحدہ آن لائن نظام تیار کیا جائے، جو مقامی ضروریات کے مطابق ہو اور جس میں تکنیکی اعتبار سے بہتری لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ طلبہ سے بار بار درخواستیں داخل کرنے یا تبدیلیوں کے لیے جو فیس لی جا رہی ہے، اسے فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ غریب اور دیہی علاقوں کے طلبہ کو مالی بوجھ سے نجات مل سکے۔

وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’لاڈکے ودیارتھی یوجنا‘ جیسی اسکیموں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے تاکہ معاشی طور پر پسماندہ طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک علیحدہ تکنیکی ٹیم کی تقرری، والدین اور طلبہ کے لیے فوری رہنمائی مراکز، اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ داخلہ عمل کو شفاف اور ہموار بنایا جا سکے۔ امول ماتیلے نے وزیر تعلیم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض داخلہ کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر حکومت نے اس معاملے پر جلد اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو نیشنلسٹ یوتھ کانگریس سڑکوں پر آ کر طلبہ کے حقوق کے لیے تحریک شروع کرے گی۔

وزیر تعلیم دادا بھوسے نے وفد کی تمام تجاویز کو بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ طلبہ اور والدین کو درپیش مسائل کا جائزہ لے کر جلد از جلد مناسب اور مثبت فیصلے لیے جائیں گے۔ اس موقع پر نیشنلسٹ یوتھ کانگریس کے تمام عہدیداران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی آئندہ بھی طلبہ کے مسائل پر مؤثر انداز میں آواز بلند کرتی رہے گی اور ضرورت پڑی تو احتجاج کی راہ بھی اپنائی جائے گی۔

NCP-SP Urdu News 19 June 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading