کسانوں کے مسائل پر مرکزی حکومت غیر سنجیدہ، سماجی یکجہتی خطرے میں: شرد پوار
اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو نہ صرف کسان مزید تباہ ہوں گے بلکہ عوام کے درمیان بھی شدید تقسیم پیدا ہوگی
ناسک میں پارٹی کے ایک روزہ تربیتی کیمپ سے شردپوار و دیگر لیڈران کا خطاب
ناسک: این سی پی- ایس پی کے قومی صدر شرد پوار نے ناسک میں منعقدہ پارٹی کے ایک روزہ تربیتی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتوں پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں کے مسائل پر بالکل غیر سنجیدہ ہے اور مہاراشٹر کی سماجی یکجہتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ زرعی اجناس کو مناسب قیمت نہیں مل رہی، پیاز کی برآمد پر پابندی نے کسانوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور پچھلے تین ماہ میں گیارہ سو سے زائد کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو نہ صرف کسان مزید تباہ ہوں گے بلکہ عوام کے درمیان بھی شدید تقسیم پیدا ہوگی جو ایک خطرناک علامت ہے۔
شرد پوار نے مزید کہا کہ ناسک کے کسان جدید زراعت اور نئے تجربات کے حوالے سے ہمیشہ آگے رہے ہیں لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث آج وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی گاندھی اور نہرو کے نظریات پر چلنے والی پارٹی ہے اور ناندگاؤں و ناسک کی سرزمین نے ہمیشہ ان نظریات کو قبول کیا ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے جس نے یشونت راؤ چوہان جیسے عظیم رہنما پیدا کیے جنہوں نے ملک کی سیاست میں تاریخ رقم کی۔ شرد پوار نے کارکنوں کو پیغام دیا کہ وہ عوامی مسائل کو اپنی جدوجہد کا محور بنائیں اور سماجی یکجہتی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور کارگزار صدر سپریہ سولے نے اس موقع پر پلوامہ حملے کے پس منظر میں بھارت-پاکستان کرکٹ میچ کھیلنے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے بدقسمتی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک دہشت گردی کے زخم سہہ رہا ہو تو کھیل کے نام پر تعلقات معمول پر لانا عوام کے جذبات کے ساتھ ناانصافی ہے۔ سپریہ سولے نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل پر بھرپور آواز اٹھائیں اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف ایک منظم تحریک کھڑی کریں تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔
ریاستی صدر ششی کانت شندے نے کہا کہ کسانوں کے مسائل پر پارٹی کا مجوزہ احتجاجی مارچ ریاستی حکومت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں حکومت کا تختہ بھی الٹ سکتا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو تاکید کی کہ وہ متحد رہ کر پارٹی کو مزید مضبوط کریں اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں تاکہ پارٹی کی جڑیں ریاست کے ہر کونے تک پھیل سکیں۔
سابق ریاستی صدر اور سینئر لیڈر جینت پاٹل نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونا جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین کے منافی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک پوری نسل نمائندگی سے محروم ہو گئی ہے، جسے فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔ جینت پاٹل نے زور دیا کہ عوام کی براہ راست نمائندگی کے بغیر جمہوریت ادھوری ہے اور یہ عمل عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
پارٹی کے قومی ترجمان جتیندر اوہاڈ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بے حس قرار دیا اور کہا کہ منی پور کے حالات پر سات ہزار کروڑ روپے کا پیکج لے جانا عوام کی تکالیف کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے او بی سی اور مراٹھا سماج کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کا واضح موقف ہے کہ مراٹھا سماج کو ان کا حق ضرور ملے مگر او بی سی ریزرویشن پر کوئی زد نہ پڑے، کیونکہ دونوں سماجوں کے درمیان ہم آہنگی ہی ریاست کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔
کیمپ کے افتتاح کے موقع پر شرد پوار نے پرچم کشائی کی اور اس کے بعد پارٹی رہنماؤں نے مختلف سیاسی و سماجی موضوعات پر کارکنوں کی رہنمائی کی۔ اس تربیتی کیمپ میں سپریہ سولے، ششی کانت شندے، فوزیہ خان، جینت پاٹل، جتیندر اوہاڈ، راجیش ٹوپے، ہرش وردھن پاٹل، نلیش لنگے، روہت پوار، بھاسکر بھگرے اور بپو صاحب پتھارے سمیت کئی اہم رہنما شریک ہوئے۔ کیمپ کا مقصد پارٹی کارکنوں کو عوامی مسائل پر فعال بنانے، ریاست کی سماجی یکجہتی کے تحفظ اور کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کو منظم کرنا تھا۔
NCP-SP Urdu News 15 sep 25.docx
