رکن ضلع پریشد اور شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے نوجوان لیڈر سلیل انل دیشمکھ کا عزم رنگ لایا
ممبئی: 1 جولائی 2025
ناگپور کے قریب کاٹول میں واقع سنترا پروسیسنگ مرکز کا معاملہ ہر انتخاب میں نمایاں موضوع رہا ہے۔ اس اہم مسئلے پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے نوجوان لیڈر اور ضلع پریشد رکن سلیل انل دیشمکھ نے مسلسل پیروی کرتے ہوئے ایک پرانی اور زیر التواء عدالتی لڑائی کا بیڑا اٹھایا۔ یکم جولائی 2025 کو ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بینچ نے اس معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ یہ سنترا پروسیسنگ کارخانہ مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم اے آئی ڈی سی) کو واپس سونپا جائے۔ اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سلیل دیشمکھ نے کہا کہ اب ایم اے آئی ڈی سی کے توسط سے اس منصوبے کی ترقی کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی۔
کاٹول کا یہ سنترا پروسیسنگ منصوبہ ہمیشہ سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ اس کی شروعات کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں۔ سلیل دیشمکھ کے والد اور کاٹول کے سابق ایم ایل اے انل دیشمکھ نے بھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی مسلسل کوششیں کی تھیں، لیکن درمیان میں بی جے پی کی حکومت ریاست میں آ گئی اور انل دیشمکھ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس عرصے میں بی جے پی کے کئی لیڈروں نے اس پروجیکٹ کو لے کر انتخابی وعدے بھی کیے، بلکہ کئی مرتبہ تو پوری انتخابی مہم اسی مدعے کے گرد گھومتی رہی۔ تاہم، بی جے پی نے ریاست اور مرکز دونوں جگہ پانچ سال حکومت کی، پھر بھی اس منصوبے پر ایک انچ بھی کام نہ ہو سکا۔ بی جے پی نہ صرف اپنے انتخابی وعدے بھول گئی، بلکہ 2019 کے انتخابات میں بھی اسی مسئلے کو لے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
انل دیشمکھ اور سلیل دیشمکھ کی دیرینہ خواہش تھی کہ یہ منصوبہ شروع ہو تاکہ کاٹول، نرکھیڑ اور پورے ودربھ کے سنترا پیدا کرنے والے کسانوں کو فائدہ پہنچے۔ 2019 کے بعد جب انل دیشمکھ دوبارہ کامیاب ہوئے تو انہوں نے اس منصوبے سے متعلق عدالتی کارروائیوں کا ازسرنو جائزہ لیا۔ ایم اے آئی ڈی سی نے اس پروجیکٹ کو ناندیڑ کی ایک پرائیویٹ کمپنی ’سائن ٹیکنک انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کے حوالے کر رکھا تھا، جس کا مقصد سنترا پروسیسنگ کے ذریعے مقامی کسانوں کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن یہ کمپنی کوئی خاطرخواہ کام نہیں کر رہی تھی۔ اسی کو بنیاد بنا کر انل دیشمکھ نے عدالت کا رخ کیا، لیکن بعد میں ان پر ای ڈی کی کارروائی شروع ہو گئی۔ اس کے باوجود، سلیل دیشمکھ نے والد کی اس قانونی لڑائی کو جاری رکھا۔ انہوں نے ممبئی میں واقع ایم اے آئی ڈی سی کے کرشی ادیوگ بھون میں کئی اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کیں اور عدالت میں چلنے والے تقریباً 44 سماعتوں میں ذاتی طور پر شرکت کی۔
عدالت میں اس مقدمے کی پیروی کاٹول اور نرکھیڑ تحصیل کے تمام کسانوں کی جانب سے معروف وکیل مہیش شکلا نے کی۔ انہوں نے عدالت میں مضبوط دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ سائن ٹیکنک کمپنی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، اس لیے یہ منصوبہ دوبارہ ایم اے آئی ڈی سی کے حوالے کیا جائے۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ کی جسٹس شرمیلا دیشمکھ نے حکم دیا کہ یہ منصوبہ آئندہ 4 ہفتوں کے اندر ایم اے آئی ڈی سی کو واپس منتقل کر دیا جائے۔ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سلیل دیشمکھ نے کہا کہ جلد ہی اس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ علاقہ کے کسانوں کو دیرینہ فائدہ حاصل ہو۔
NCP-SP Urdu News 1 July 25.docx