این سی پی-ایس پی کی جانب سے بدعنوان افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ
ممبئی: ریاست میں ریشم کی کاشت کرنے والے کسانوں کو ملنے والی سبسڈی میں رکاوٹ ڈالنے والے غیر ذمہ دار افسران کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس شرد چندر پوار پارٹی کے ترجمان اور یوتھ ممبئی کے صدر ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے ریاست کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور ٹیکسٹائل وزیر سنجے ساوکارے کو ای میل کے ذریعے خط بھیج کر ان بدعنوان افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ریاست میں ریشم کی کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے مرکزی حکومت کی ’سلک سمگر-2‘ اسکیم نافذ ہے، جس میں 50 فیصد حصہ مرکزی حکومت، 25 فیصد ریاستی حکومت اور باقی 25 فیصد کسانوں کا ہوتا ہے۔ 2021-22 سے اس اسکیم کی سبسڈی کسانوں کو موصول نہیں ہوئی تھی۔ بالآخر، مرکز نے 2024 میں اپنا فنڈ ریاستی حکومت کو منتقل کر دیا اور حکومت نے 31 مارچ 2025 کو سرکاری حکم جاری کیا۔ لیکن اس کے باوجود، ریشم ڈائریکٹرز کی لاپرواہی کے سبب یہ فنڈ کسانوں تک پہنچنے کے بجائے واپس چلا گیا اور اس اسکیم کے تحت 415 کسانوں کو ان کا حق نہیں مل سکا۔ یہ انکشاف نیشنلسٹ کانگریس شرد چندر پوار پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے کیا۔
کیا یہ محض لاپرواہی ہے یا جان بوجھ کر کی گئی بدعنوانی؟ اس فنڈ کو روکنے کے پیچھے کس کا مفاد ہے؟ جب ریاستی حکومت نے اجازت دے دی تھی تو کسانوں تک رقم کیوں نہیں پہنچی؟ یہ تمام حقائق واضح کرتے ہیں کہ کسانوں کے جائز حق پر کھلم کھلا ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے سخت الفاظ میں یہ الزام عائد کیا۔
کسانوں کی سبسڈی ختم ہو کر حکومت کے خزانے میں واپس چلی جانا انتہائی شرمناک ہے۔ کیا ریشم ڈائریکٹرز نے کسانوں کو بھوکا مارنے کی مہم چلا رکھی ہے؟ صرف تحقیقات کافی نہیں، بلکہ ان افسران کو فوراً برطرف کیا جانا چاہیے! ساتھ ہی، کسانوں کو نیا فنڈ جاری کرکے فوری طور پر ان کے کھاتوں میں جمع کیا جائے، ورنہ شدید احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
