ممبئی: مہاوکاس اگھاڑی کے کابینی وزیر اور این سی پی لیڈر نواب ملک کی ای ڈی کے ذریعے گرفتاری کے خلاف آج مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے وزراء و سینئر لیڈران نے منترالیہ کے قریب مہاتماگاندھی کے مجسمے کے پاس زبردست مظاہرہ کیا اور مودی حکومت وای ڈی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری اس مظاہرے میں کانگریس، این سی پی وشیوسینا کے دیگر لیڈران بھی شریک ہوئے جبکہ ریاست بھر میں اسی طرح سے احتجاج کیا گیا۔
اس مظاہرے میں نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار، این سی پی کے ریاستی صدر وآبی وسائل کے وزیرجینت پاٹل، وزیرداخلہ دلیپ ولسے پاٹل، وزیرخوراک چھگن بھجبل، دیہی ترقی کے وزیر حسن مشرف،وزیرتعمیرات جیتندراوہاڈ،رکن پارلیمنٹ سپریا تائی سولے، وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، تعمیرات عامہ کے وزیر اشوک چوان، ریاستی کانگریس کے کارگزارصدر نسیم خان، سابق راجیہ سبھا ممبر حسین دلوائی،ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، وزیرصنعت سبھاش دیسائی اور نواب ملک کے بھائی کپتان ملک کے علاوہ مہاوکاس اگھاڑی میں شامل تینوں پارٹیوں کے بیشتر ممبرانِ اسمبلی وریاستی سطح کے لیڈران،وعہدیداران و کارکنان کثیر تعداد موجود تھے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے کارگزار صدرنسیم خان نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے وزیر نواب ملک کو ای ڈی نے جھوٹے کیس میں پھنساکر پی ایم ایل اے قانون کے تحت گرفتار کیاہے، ہم اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے مرکز کی بی جے پی حکومت کی سیاسی انتقام اور ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش قراردیتے ہیں۔ انہوں نے مودی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ پرستی اور سیاسی تعصب کی بنیاد پر پورے ملک میں اپوزیش کے دیگر لیڈروں کے ساتھ خاص طور پر مسلم لیڈروں کو نشانہ بنارہی ہے۔ مودی حکومت ای ڈی،سی بی آئی، این آئی اے جیسی مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈال کر مختلف پارٹیوں کو لیڈران کوخوفزدہ کرتی ہے اور جھوٹے کیسیس میں پھنساتی ہے۔ اسی کڑی کے تحت انیل دیشمکھ ونواب ملک کو بھی گرفتارکیا گیا ہے جو مہاراشٹر کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کوغیرمستحکم اوربدنام کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اس سے قبل بھی اسی طرح کی انتقامی ومتعصبانہ کارروائیاں کرتی رہی ہے پھر چاہے وہ کانگریس کے سینئر لیڈر مرحوم احمد پٹیل ہوں، اترپردیش کے اعظم خان ہوں، بنگال کے مسلم لیڈران ہوں یا پھر نواب ملک ہوں، ان سب کے خلاف وہ اسی کے تحت کارروائیاں کروارہی ہے۔
نسیم خان نے کہا کہ مودی حکومت کے اندر اس قدر اہنکار آچکا ہے کہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لیکن اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہرعمل کا ردعمل ضرورہ ہوتا ہے۔ مودی حکومت اپنے اہنکار اور اقتدرا کی ہوس کی بناء پر ملک کی آئین اور جمہوریت کے تقدس کوپامال کررہی ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک،آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہوکر بی جے پی کا مقابلہ کریں کیونکہ اب بہت ہوگیا ہے۔ بہت برداشت کیا گیا۔ اس لئے اب ہم تمام کو متحد ہوکر اس کے خلاف سینہ سپر ہونا پڑے گا اور بی جے پی حکومت کو اکھاڑپھینکنا ہوگا۔نسیم خان نے کہا کہ مودی حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف مہاوکاس اگھاڑی پوری طرح متحد ہے اور ہم پوری ریاست میں اس کے خلاف تحریک چلائیں گے۔
واضح رہے کہ این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیرنواب ملک کی ای ڈی کے ذریعے غیرقانونی گرفتاری کے بعد ریاست بھر میں بی جے پی اور ای ڈی کے خلاف زبردست ناراضگی پھیل گئی ہے۔ اسی ناراضگی کے تحت تینوں پارٹیوں کے لیڈران نے بی جے پی وای ڈی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ نواب ملک کو حمایت دینے ومودی حکومت ومرکزی ایجنسیوں کی مذمت کرنے کے لئے پورے مہاراشٹر میں اس طرح کے احتجاج ہوئے ہیں۔