ناندیڑ:6جون۔(ورق تازہ نیوز)آج کل شہر ناندیڑ پانی کی شدید ترین قلت کے دور سے گزر رہا ہے ۔ شہریان کو سب سے زیادہ پریشانی اس وقت ہوئی جب 5 جون کو مسلمانوں کی عید الفطر تھی ۔5 جون تک دنوں تک نلوں کو پانی نہ آنے سے 4 جون کی تمام رات مسلم محلوں میں لوگوں نے پانی کے لیے رات بھر جاگ کر گزاری۔ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے عہدےداران اور کارپوریٹرس لوگوں کو یہی جھوٹی تسلی دیتے رہے کہ پانی آج ‘ ابھی آنے والا ہے۔ لو گ نلوں کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے رہتے تھے اور جب پانی نہیں آتا تو مایوس ہو جاتے تھے بالآخر پانچ دنوں بعد چھٹے دن رات میں کچھ محلوں میں نلوں کو پانی آیا رات میں دیر تک لوگوں نے پانی کا ذخیرہ کیا اس دوران شہریوں سے کارپورشن اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین نے عجیب و غریب مذاق کیا۔ انہوں نے اپنے طور پر دو دن قبل یہ اعلان کردیاتھا کہ عید الفطر پر4اور5جون کومسلسل دو د ن پانی بھر پور آئے گا۔
لوگ پانی کے منتظر تھے لیکن نلوں کو ایک قطرہ بھی پانی نہیں آیا۔ جب کارپویشن کے محکمے کے سربراہی آب کے ذمہ داران سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وشنوپوری میں پانی کی سطح بالکل کم ہو گئی ہے اور پمپ کام کام نہیں کر رہے ہیں، چنانچہ دو دن تک مسلسل پانی کی سربراہی ممکن نہیں ۔عہدیداران نے چیرمین فاروق علی خان کے فیصلے اور پھر اعلان کوردی کی ٹوکری کی نذر کردیا ۔ واضح ہو کہ ناندیڑ کارپوریشن پر کانگریس پارٹی کا قبضہ ہے اس لیے شہریان پانی کی قلت کے لئے ذمہ دار کانگریس پارٹی کو ٹھہرا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آئندہ پندرہ ۔بیس دنوں تک پانی کی شدید قلت ترین صورت اختیار کرسکتی ہے ۔ کیونکہ مانسون کی بارش کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ابھی تک مانسون کیرلا میں نہیں پہنچا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مانسون کیرالا میں 8جون تک پہونچ سکتا ہے ۔ جبکہ عام طور پر مانسون یکم جون تک پہنچ جاتا ہے ۔اس طرح مہاراشٹرمیں 15 جون سے قبل مانسون کی بارش کا کوئی امکان نہیں ہے ۔
ناندیڑ شہریان کے لئے آئندہ دو۔ تین ہفتے انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ہو سکتے ہیں ۔اس سچائی کے باوجود ضلع کے کانگریسی قائدین میونسپل کارپوریشن کے عہدیداران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔چار اور پانچ جون کو مسلسل دو دن نلوں کو پانی سربراہی کے فاروق علی خان کے اعلان کے باعث مسلمانوں نے اطمینان کی سانس لی تھی لیکن یہ دو دنوں میں کہیں پر بھی نالوں کو پانی فراہم نہیں ہو سکا جس کے بعد مسلمانوں میں میں فاروق علی خان اور کانگریس پارٹی کے تئیں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ جس کا کا اثر سوشل میڈیا پرواضح طور پر نظرآرہا ہے ۔
اعلان کے باوجود عین عید کے وقت پانی نہ ملنے کی وجہ سے کانگریس پارٹی کے عہدےداران اور ورکرس کو نشانہ بناتے ہوئے مختلف کممنٹس اور فقرے کس رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ فاروق علی خان اور کارپوریشن نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بھدا مذاق کیا ہے ۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر کارپوریشن انتظامیہ دو دنوں تک پانی کی سپلائی کرنے سے قاصر تھا تو پھر فاروق علی خان نے کس بنیاد پر دو دن تک نلوں کوپانی فراہم کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ اس اعلان کے مدنظر لوگوں نے پانی کی زیادہ ذخیراندوزی نہیں کی تھی ۔ آج شہریان پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔سب سے زیادہ برا حال ناندیڑ حلقہ اسمبلی جنوب میں ہے جہاں پرعوام کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بالخصوص مسلم آبادی یہاںزیادہ آبادہے لیکن انھیں عید کے موقع پر پانی کے لئے لیے پریشان ہونا پڑا ہے۔