ناندیڑمیں 20 ہزارسے زائد کانگریسی کارکنان کاعظیم مورچہ

0 23

ناندیڑ۔25ستمبر(نامہ نگار) : فرانس کی کمپنی سے بھارت کے لئے جنگی جہاز رافیل کی خریدی کے معاملے میں ۱۴ ہزار کروڑ روپیئے کا گھوٹالہ پیش آیا ہے۔ اس سودے بازی میں مودی حکومت ملوث ہے۔ رافیل گھوٹالے کے خلاف ملک بھر میں کانگریس پارٹی کی جانب سے احتجاج منعقد کیئے جارہے ہیں۔ اُسی کی کڑی کے تحت ناندیڑ شہر و ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج 25ستمبر کو عظیم ترین احتجاجی مورچہ منعقد کیا گیا تھا۔ ناندیڑ کی سیاسی تاریخ میں آج کا ےہ مورچہ اپنی ایک الگ پہچان بنا چکا ہے۔ کیونکہ اس مورچے میں ہزاروں افراد نے شرکت کرکے اسے تاریخ ساز بنایا اور تمام ہی لوگوں کا ےہ توجہ کا مرکز بن گیا۔ آج صبح سے ہی ناندیڑ شہرکے مختلف علاقوں اور ضلع کے مختلف مقامات سے کانگریسی قائدین اور ورکرس کے قافلے ناندیڑ شہر کے آئی ٹی آئی چوک پہنچنے لگے۔ صبح 9 بجے سے وہاں ہجوم اکھٹا ہونا شروع ہوا۔ تقریبا ۱۱ بجے مہاتما پھلے مجسمے کے روبرو کانگریسی قائدین نے آئے ہوئے تمام ورکرس کی رہنمائی کرکے خطاب کیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری و مہاراشٹر کے جوائنٹ انچارج سمپت کمار‘ آشیش دوا‘ پی آر پی کے صدر جوگیندر کباڑے‘ ناندیڑ شمال حلقہ کے رکن اسمبلی ڈی پی ساونت‘ ناندیڑ شہر کانگریس کمیٹی کے صدر و ایم ایل سی امر راجورکر‘ رکن اسمبلی وسنت چوہان نے اس مورچے کی قیادت کی۔ سمپت کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ مودی نے لوک سبھا سے قبل لوگوں کو سنہرے خواب دکھائے تھے مگر ایک بھی وعدہ انہوں نے پورا نہیں کیا۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ روز نئے گھوٹالے سامنے آرہے ہیں۔ آشیش دوا نے کہا کہ اس ملک کا چوکیدار ہی چور نکلا ہے۔ جنگی جہاز رافیل کی خریدی کے معاملے میں 41 ہزار کروڑ روپیئے کا گھوٹالہ کیا گیا۔ بی جے پی حکومت بوکھلا چکی ہے۔ اپنی خامیوں کو چھپانے کے لئے لوگوں کا ذہن دوسری جانب منتشر کرنے کی تیاری میں ہے۔ ڈی پی ساونت نے کہا کہ مہاراشٹر میںکسان پریشان حال ہے۔ بے روزگاری بڑھ چکی ہے۔ تعلیمی شعبہ میں حکومت کی دخل اندازی بڑھ گئی ہے۔ آج عام آدمی حکومت کی پالیسیوں سے پر یشان حال ہے۔ امر راجورکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مودی نے عام آدمی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ چناﺅ سے قبل جھوٹے وعدے کرکے عوام کو گمراہ کرکے اقتدار حاصل کرنے والے مودی آج بدعنوانیوں میں ملوث پائے جارہے ہیں۔ دلت‘ مسلم طبقہ پر مظالم بڑھ چکے ہیں۔ مودی کے ساتھی بینکوں سے کروڑوں روپیئے لے کر ملک چھوڑ کر فرار ہورہے ہیں۔ جوگیندر کباڑے نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد سے بی جے پی قائدین سنویدھان کو بدلنے کی بات کررہے ہیں۔ جمہوریت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس بد عنوان حکومت کو بے دخل کرنا بے حد ضروری ہے۔ آئی ٹی آئی سے مورچے کا آغاز ہوا۔ ےہ مورچہ شیواجی نگر ‘ کلا مندر‘ وزیر آباد چوراستہ ہوکر ضلع کلکٹر آفس پہنچا جہاں پر اس مورچے کا اختتام عمل میں آیا۔ کانگریس کے وفد نے انچارج کلکٹر سنتوش وینی کر سے ملاقات کرکے انہیں رافیل گھوٹالے کے خلاف ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس موقع پر ضلع پریشد صدر شانتا بائی پوار‘ میئر شیلا بھورے‘ ڈپٹی میئر ونئے پاٹل‘ چیئر مین شمیم عبداللہ‘ ہاﺅس لیڈر وریندر سنگھ گاڑی والے‘ سابق میئر عبدالستار‘ بلونت سنگھ‘ پرکاش متھا‘ یوتھ کانگریس کے ضلع صدر پپو کونڈیکر‘ شہر صدر وٹھل پاﺅڑے‘ عبدالغفار‘ کارپوریٹر مسعود احمد خان‘ عبدالعلیم خان‘ فیروز بھائی‘ فاروق علی خان‘ وجئے یونکر‘ سید شیر علی‘ عبدالحبیب باغبان‘ بابو بھائی کھوکے والے‘ عبدالرشید‘ جاوید چاﺅش‘ چاند پاشاہ‘ صابر چاﺅش‘ عبداللطیف‘ واجد جاگیردار‘ محمد ناصر‘ سید صدام‘ فاروق بدویل‘ بابو بھائی‘ کانگریس پارٹی کے ترجمان سنتوش پانڈاگڑے‘ منتجب الدین و دیگر موجود تھے۔اس تاریخی احتجاجی مورچے میں 20ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ مہاویر چوک تا سری نگر مین روڈ اس مورچے کے دوران ٹرافک کے لئے بند رکھی گئی تھی۔ مورچے میں شامل افراد کا ہجوم کلکٹر آفس سے لے کر کلا مندر تک پھیلا ہوا تھا۔