پربھنی (رپورٹ محمد ضیاءالدین ) درگاہ حضرت سید شاہ تراب الحق پربھنی و اس سے متصل آراضی کی ملکیت کے مجاوروں کے دعوے کو پربھنی کورٹ نے خارج کریا ۔ اس کیس کی تفصیلات کے مطابق پربھنی کی درگاہ سید شاہ تراب الحق پر لمباجی رینگے ودیگر جو بور مجاور درگاہ کی صاف صفائی پر عرصہ درز سے معمور ہیں انھوں نے درگاہ اور اس سے متصل سراے سمیت دو ایکر ایک گنٹہ زمین پر ملکیت کا دعوی کیا تھا
سول کورٹ میں داخل کردہ دیوانی دعوی نمبر 124/ 2014 اس کیس میں لمباجی رینگے نے مراٹھواڑہ وقف بورڈ و دیگر کو فریق بناکر مذکورہ بالا زمین کو اپنی ملکیت ہونے کا دعوی داخل کیا تھا اور اپنے اس دعوی کے ثبوت میںریوینیو ڈپارٹمنٹکی دستاویزات پیش کی تھی اور اپنے اس کیس کو تقویت پہنچانے کے لیے وہ ہائی کورٹکی اورنگ آباد بنچ بھی گئے تھے لیکن ہائی کورٹ کے عزت مآب جج صاحب نے ان کے اس دعوی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوے اس کے مناسب راستے سے آنے کے لیے کہا اسی بنیاد پر یہ کیس پربھنی سول کورٹ میں آگیا
پربھنی ضلع وقف بورڈ نے اس کیس کی پیروی کے لیے شہر کے معروف قانون داں اور ریٹایرڈ ایڈیشنل سیشن جج جناب عبدالحفیظ انتخاب کیا جناب عبدالحفیظ نے جنوری ۴۲۰۲ میں یہ کیس اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنی قانونی مہارت کو بروے کار لاتے ہوے تمام حقایق معزز کورٹ کے روبرو پیش کیے اور آرڈر 07 اور Rule 11 کے تحت درخواست داخل کی اور کئی اہم نکات کورٹ کے سامنے پیش کیے اور بتایا کہ مدعی کو دعوی داخل کرنے کی ۔ کوئی وجہ ہی نہیں کہ یہ وقف پراپرٹی ہے جس کا اندراج وقف گزٹ میں موجود ہے جس کو چالیس سال گزر چکے ہیں چونکہ یہ دعوی مدت کےبعد کیا گیا ہے
وہیں اس کی سماعت کا اختیار مہاراشٹر وقف ٹریبونل کو ہے لہذا اس دعوی کو خارج کردیا جاے اور معزز عدالت نے ان کی دلیلوں کو مانتے ہوے اس دعوے کو خارج کردیا گو کہ اس کیس کو چلانے میں ان کو کئی دشواریوں کا سامنا تھا بالخصوص وقف بورڈ کا عدم تعاون کاغذات کا بروقت فراہم نہ کرنا جیسی دشواریوں کے باوجود عبدالحفیظ صاحب نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اس کے لیے ہر طرف سے ان کو مبارکباد پیش کی جارہی ہے انھوں اللہ کاشکر ادا کرتے ہوے کہا کہ اللہ کے کرم سے وہ اولیاءاللہ کی زمین کو دستبرد سے بچاسکے ہیں ۔