ناندیڑپربھنی ہنگولی:25اپریل ( ورق تازہ نیوز)بروز جمعہ 26 اپریل کو لوک سبھا الیکشن کے دوسرے مرحلے میں مراٹھواڑہ کے آٹھ حلقوں میں سے تین حلقوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں یہ تین حلقے ناندیڑ‘ پر بھنی اور ہنگولی ہے۔ تینوں حلقوںمیں انڈیا اتحاد اور این ڈی اے میں راست مقابلہ ہو رہا ہے ۔این ڈی اے جسے مہاراشٹر میں مہا یوتی کا نام دیا گیا ہے۔ بی جے پی شیوسینا(شندے) راشٹروادی کانگریس پارٹی شامل ہے جبکہ انڈیا اتحادکو مہاراشٹر میں مہا ویکاس اگھاڑی کے نام سے جانا جاتا ہے۔جس میں شو سینا(ا ودھو ٹھاکرے) کانگریس پارٹی‘ راشٹروادی کانگریس پارٹی (شردپوار) شامل ہے۔
مذکورہ تینوں حلقوں میں مہا یوتی اورمہا ویکاس کے درمیان راست مقابلہ ہو رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ناندیڑ میں بی جے پی امیدوار پرتاپ پاٹل اور کانگریس ۔ مہاویکاس اگھاڑی کے امیدوار وسنت راو چوہان کے درمیان کاٹے کا مقابلہ ہے۔ ادھر ہنگولی میں مہایوتی کے امیدواربابوراو کدم کوہلی کر اور مہاویکاس اگھاڑی (شیوسینا ۔اودھو ٹھاکرے ) کے امیدوار ناگناتھ آشٹی کر کے درمیان مقابلہ میں آشٹی کر کو سبقت حاصل ہورہی ہے ۔
ا سی طرح پربھنی حلقہ میں مہایوتی راشٹروادی کانگریس پارٹی(اجیت پوار) کے امیدوار مہادیو جانکر اور موجودہ ایم پی سنجے جادھو مں راستے مقابلے میں جادھوکو سبقت حاصل ہے۔ناندیڑمیںبی جے پی اور کانگریس پارٹی کے امیدوارمیں زبردست کاٹے کامقابلہ ہورہا ہے۔مہایوتی ۔ بی جے پی کے نامزد امیدوار اور موجودہ ایم پی پرتاپ پاٹل چکھلی کر‘کانگریس پارٹی کے سابقہ ایم ایل اے وسنت راو چوہان میں کاٹے کی ٹکر ہونے سے دونوں پارٹیاں اپنی حلیف پارٹیوں کو ساتھ لے کر ایک دوسرے کو ہرانے کی پوری کوشش کر رہی ہیں ناندیڑمیں ونچت بہوجن اگھاڑی نے اویناش بھوسی کر کو اپناامیدوار بنایا ہے ان کا تعلق لنگائےت سماج سے ہونے کی وجہ سے ان کی طرف مسلم اور دلت ووٹرز کا رجحان دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس لیے اصل ٹکر پرتاپ پاٹل چکھلی کراوروسنت چوہان میں ہے۔ دلت اور مسلم سماج ایسے امیدوار کی تائید کرتا دکھائی دے رہا ہے جس میں بی جے پی مہا یوتی کے امیدوار کو ہرانے کی طاقت ہے ایسا رجحان ہنگولی‘ پر بھنی‘ناندیڑ میں دکھائی دے رہا ہے۔

ادھر پربھنی حلقے لوک سبھا میں مہا ویکاس اگھاڑی نے موجودہ ایم پی سنجے جادھو( شیوسینا ٹھاکرے) کو اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ مہا یوتی نے راشٹروادی کانگریس ( اجیت پوار )کے امیدوار مہادیو جانکر کا تعلق سانگلی ضلع سے ہے اس لیے انہیں پربھنی میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ سنجے جادھو کی تشہیری مہم میں کانگریس پارٹی اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کے لیڈران حصہ لے چکے ہیں ۔شردپوار اور کانگرس پارٹی کے لیڈران نے ایک ہی اسٹیج سے تقریر کی ہے اور سنجے جادھو کو ووٹ دینے کی عوام سے اپیل کی ہے۔پربھنی کی قدآورقائد محترمہ فوزیہ خان( ایم پی راجیہ سبھا) بھی انتخابی جلسوں میں شرکت کرتی رہی ہےں۔پربھنی میں مسلمانوں نے متفقہ طور پر سنجے جادھو کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنجے( بنڈو) جادھو اپنے حریف پر سبقت حاصل کیے ہوئے کیے ہوئے ہیں۔ یہاں سے ونچت بہو جن اگھاڑٰی نے اپناامیدوار کھڑا کیا ہے ۔
مراٹھواڑناندیڑکانگریس کاگڑھ رہا ہے لیکن سابقہ وزیراعلی اشوک راو چوہان کے بی جے پی میں شریک ہو جانے سے کانگریس کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔پربھنی اور ہنگولی میں غیر منقسم شیوسینا کے گڑھ مانے جاتے ہیں اور اس لیے یہاں ووٹرز کا رجحان شیوسینا( ٹھاکرے پارٹی) کی طرف دکھائی دیتا ہے۔ مراٹھواڑہ میں شیوسینا( شندے) کوئی چمتکار کرتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ شندے جو مہاراشٹر کے وزیراعلی ہیں ووٹرز پراثر انداز ہونے میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں یہ 4جون2024¾ کو نتائج کے اعلان کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
