ممبئی داعش معاملہ :دوسرے سرکاری گواہ کا NIA کے خلاف بیان

0 40

ممبئی:15 اکتوبر(ای میل)ممنو ع تنظیم داعش کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین محسن شیخ اور رضوان احمد کے مقدمہ کی سماعت کے وقت خصوصی عدالت میں دوسرے سرکاری گواہ کی گواہی عمل میں آئی جس کے دوران اس نے دفاعی وکلاءکی جرح میں اس بات کا اعتراف کیا کہ گواہی دینے آنے سے ایک دن این آئی اے کے ایک افسر نے اس سے رابطہ قائم کرکے عدالت میں کس طرح گواہی دیناہے اور دفاعی وکلاءکے سوالات کا کیا جواب دینا ہے کے تعلق سے اسے ہدایتیں دی تھی۔ سرکاری گواہ آج ملزم کو کمرہ عدالت میں پہچاننے میں ناکام رہا ۔ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے وکلاءعبدالواہاب خان اور شریف شیخ نے جرح کرتے ہوئے عدالت کی توجہ مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) اور قومی تفتیشی ایجنسی NIA کے ذریعہ درج کیئے گئے بیانات میں تضاد کی جانب مبذول کراتے ہوئے عدالت کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ تحقیقاتی دستوں نے فرضی بیان مرتب کیا ہے اور گواہ نے جو باتیں انہیں بتایا تھا اس کے متضاد باتیں بیان میں درج کی گئی ہیں۔خصوصی این آئی اے عدالت کے جج سمیر اڑکر کے روبرو وکیل استغاثہ پرکاش شیٹی نے دوسے سرکاری گواہ سے سوالات کیئے جس کے بعد دفاعی وکلاءنے اس سے جرح کی۔سرکاری گواہ سے فریقین کی جرح کے بعد عدالت نے کارروائی۲۲ اکتوبر تک ملتوی کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ واضح رہے کہ ممبئی کے مضافات ملاڈ مالونی سے تعلق رکھنے والئے محسن شیخ اور اتر پردیش کے شہر گورکھپور کے مکین رضوان احمد کو ممبئی اے ٹی ایس نے داعش کے ہم خیال اور رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا اور ان پر ملک دشمنی سمیت دیگر سخت دفعات عائد کیئے تھے ۔ مرکزی حکومت کے حکم، نامہ کے مطابق گذشتہ سال اس مقدمہ کو اے ٹی ایس سے لیکر این آئی اے کے حوالے کردیا گیا تھا جس کے بعد سے اس کی سماعت خصوصی این آئی اے عدالت کررہی ہے۔