حکومت کے آشیرواد سے انتہاپسندی  بے لگام: سچن ساونت

0 35

ممبئی: ریاست بھر میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے والے سناتن سنستھا کے کارکنان کی  رنگے ہاتھوں گرفتاریوں کے باوجود سناتن سنستھا و اس کے سربراہ کے خلاف ہنوز کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انڈیا ٹوڈے نیوزچینل نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے یہ منظرعام پر لادیا ہے کہ ۲۰۰۸ میں ہوئے بم دھماکوں میں سناتن سنستھا کے سادھکوں کا ہاتھ تھا، اس کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے اس تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی سمت کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ اس کے برخلاف سناتن سنستھا کے لوگوں نے انڈیا ٹوڈے کے صحافیوں کی تصویریں سوشل میڈیامیں پھیلاکر انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش شروع کئے ہوئے ہیں۔ یہ پورا معاملہ انتہائی منافرت آمیز اورقابل مذمت ہے۔ وزیراعلیٰ کے آشیرواد سے یہ انتہاء پسندبے لگام ہوئے ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کہی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ممبئی کے قریب نالاسوپارہ میں سناتن سنستھا کے سادھکوں کے پاس سے زندہ بم اور بم بنانے کے دیگر ساز وسامان کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا گیا ۔ اس معاملے میں سناتن کے کچھ سادھکوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز اشیاء کی ضبطی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کا منصوبہ کوئی بڑا دہشت گردانہ واردات انجام دینے کا تھا۔ ان کے لنک راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشوہندوپریشد کے بڑے لیڈران تک پہونچنے کی امید ہے۔ اگر اس معاملے کی گہرائی سے اور غیرجانبداری سے تفتیش کی جائے تو کئی بڑے لیڈران پر کارروائی ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو عوام میں یہ میسیج جاتا کہ بی جے پی حکومت ہندومخالف ہے ، اس لئے وزیراعظم مودی اس تفتیش پر براہِ راست اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ہی وزیراعلیٰ نے اس معاملے کی تفتیش   دھیمی رفتار سے کرنے کا حکم اے ٹی ایس کو دیا ہے، جس کا دعویٰ انڈیا اسکوپ نامی ویب سائیٹ نے کیا ہے۔ سچن ساونت کے مطابق  اتنے زیادہ ثبوت وشواہد ہونے کے باوجود حکومت نے سناتن سنستھا پر پابندی عائد کرنے کی سمت کوئی قدم نہیں اٹھارہی ہے۔  اس کے برخلاف سناتن سنستھا کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگوں کو دھمکی اور انہیں  قانونی چارہ جوئی کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے ۔ انڈیا ٹوڈے کے صحافیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گرد بتاکر سماج میں دہشت پیدا کرنے کی کوشش شروع ہے۔ حکومت کی پشت پناہی کی وجہ سے یہ گھناؤنا کام جاری ہے۔ دوسری جانب سے پولیس کا استعمال کرکے حکومت اپنی  غلط پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کو نکسل وادی قرار دینے کی کوشش حکومتی سطح پرکررہی ہے۔ کانگریس اس معاملے کی سخت مذمت کرتی ہے اور اس معاملے میں غیر جانبدارانہ  کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔