MRCC Urdu News 18 April 24

ہٹلرازم، دہشت و منوواد کا مقابلہ متحد ہو کر کریں گے: ورشا گائیکواڑ

’400 پار‘ بی جے پی کا پروپیگنڈہ ہے، جنوب میں صاف، شمال میں ہاف، کہاں سے آئے گا 400 پار؟

ادھوٹھاکرے نے جنہیں لیڈر بنایا، ایم پی بنایا وہ اگر ان کے نہیں ہوئے تو عوام کے کیا ہوں گے

ممبئی: لوک سبھا کی یہ لڑائی ملک کے لیے بہت اہم ہے، یہ جمہوریت اور ملک کے آئین کو بچانے کی جنگ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اہم مسائل کو پس پشت ڈال کر لوگوں کے سامنے ایک مختلف ایجنڈا پیش کر رہی ہے لیکن لوگ اس کے ایجنڈے کا شکار نہیں ہوں گے۔ چوری اور سینہ زوری بی جے پی کی پالیسی ہے، لیکن ہمیں سچائی کے ساتھ بی جے پی سے جواب طلب کرنا چاہئے۔ لوک سبھا انتخابات کی یہ جنگ ہٹلرزم، دہشت اور منوواد کے خلاف جنگ ہے اور اس کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں ممبئی کانگریس کے صدر پروفیسر ورشا گائیکواڑ نے کہیں ہیں۔ وہ ساؤتھ سینٹرل ممبئی میں عہدیداروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کر رہی تھیں۔

ورشا گائیکواڑ مزید کہا کہ بی جے پی نے 10 سالوں میں سرکاری مشینری کا غلط استعمال کیا، ای ڈی، سی بی آئی، محکمہ انکم ٹیکس کے ذریعے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی، کچھ لوگ اس کارروائی سے خوفزدہ ہو کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ کل تک یہ سرکاری ایجنسیاں جن کو نوٹس بھیج رہی تھیں وہ بی جے پی میں چلے گئے اور واشنگ مشین صفائی ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی آمریت کو اب ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے 10 سال میں کیا کیا؟ بی جے پی لیڈروں اور امیدواروں سے ہمیں اس کا جواب طلب کرنا ہے۔ ہر سال 2 کروڑ نوکریاں دینے کا کیا ہوا؟ سب کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ جمع کرنے کا کیا ہوا؟ مہنگائی میں کمی کیوں نہیں؟ خواتین پر مظالم پر پی ایم مودی کیوں نہیں بولتے؟ آنے والے دنوں میں ایسے سوالات پوچھے جائیں۔ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ کچھ علاقوں میں لوگ بی جے پی امیدواروں کو داخلے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ لوگ بی جے پی کے جھوٹ سے تنگ آچکے ہیں ’اب کی بار 400 پار‘ محض بی جے پی کا پروپیگنڈہ ہے، سچائی یہ ہے کہ بی جے پی ’جنوب میں صاف اور شمال میں ہاف ہے‘ پھر کہاں سے آئے گا 400 پار؟ سچائی یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی 180 سیٹوں سے اوپر نہیں جا سکتی۔

ممبئی کانگریس کی صدر نے کہا کہ جنوبی وسطی حلقہ کے ایم پی نے لوک سبھا میں مقامی مسائل کو نہیں اٹھایا۔ ریلوے کے مسائل نہیں اٹھائے گئے، دھاراوی میں 7 لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے لیکن پارلیمنٹ میں اس پر کوئی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ادھوٹھاکرے نے جنہیں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کا سربراہ بنایا، انہیں دو بار ایم پی بننے کا موقع دیا وہ جب ادھوٹھاکرے کے نہیں ہوئے تو بھلا عوام کے کیا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ انیل دیسائی جنوبی وسطی ممبئی حلقہ سے بھرپور ووٹوں سے کامیاب ہوں گے ان کے علاوہ انڈیا الائنس کے دیگر امیدوار بھی بھرپور اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔

شیو سینا اور انڈیا الائنس کے لیڈروں نے جنوبی وسطی ممبئی حلقہ کے امیدوار انیل دیسائی کی مہم کے لیے میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں راجیہ سبھا ایم پی چندرکات ہنڈورے، سابق وزیر دیواکر راؤتے، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، سابق ایم پی حسین دلوائی، این سی پی ممبئی کی صدر راکھی جادھو، عام آدمی پارٹی کی پریتی مینن، شردھا جادھو وغیرہ موجود تھیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading