کانگریس اقتدار میں آئی تو ممبئی کو آلودگی سے مکمل نجات دلائیں گے: ورشا گائیکواڑ

ممبئی کانگریس نے ’کلین ایئر ایکشن پلان‘ جاری کر کے صاف ہوا کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دے دیا

ممبئی: شہر کی بگڑتی فضا، سانس کے بڑھتے امراض اور آلودگی کی خطرناک سطح کے پیش نظر ممبئی کانگریس نے آج ’کلین ایئر ایکشن پلان‘ جاری کرتے ہوئے صاف اور محفوظ ہوا کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیا۔ پریس کانفرنس کے ذریعے ممبئی کانگریس کی صدر اور رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے اعلان کیا کہ اگر کانگریس کو میونسپل کارپوریشن میں اقتدار ملا تو پہلے ہی دن سے شہریوں کے سانس کا حق محفوظ بنانے کی کوششیں شروع کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کی زہریلی فضا قدرتی آفت نہیں، بلکہ موجودہ حکومت کی بے حسی، لاپرواہی اور ٹھیکے داروں کو دی گئی کھلی چھوٹ کا نتیجہ ہے۔

اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری یو بی وینکٹیش، رکن اسمبلی اسلم شیخ، سچن ساونت، امین پٹیل اور مدھو چوہان بھی موجود تھے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ممبئی کی فضا کو صحت مند بنانا سیاسی نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری ہے اور تاخیر شہر کو مزید خطرات سے دوچار کرے گی۔ کلین ایئر ایکشن پلان میں سب سے پہلے شہر بھر میں ریئل ٹائم ایئر کوالٹی نگرانی کا نظام مضبوط کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہر وارڈ، بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن اور بڑے چوراہوں پر AQI ڈسپلے بورڈ نصب کیے جائیں گے اور بند پڑے سینسرز کو 24 گھنٹے میں درست کرنا لازمی ہوگا۔ وارڈ وار آلودگی کے ذرائع عوام کے سامنے رکھے جائیں گے اور ہر وارڈ کے لیے علیحدہ ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔

تعمیراتی سرگرمیوں کو آلودگی کا بڑا سبب قرار دیتے ہوئے کانگریس نے اعلان کیا کہ ہر تعمیراتی مقام پر فوگنگ گنز، گرین نیٹس، وہیل واش اور اینٹی ڈسٹ سسٹم لازمی ہوگا، جبکہ قواعد کی خلاف ورزی پر سخت جرمانے کیے جائیں گے۔ بغیر ڈھکن والے ڈمپر اور ملبے والے ٹرکوں پر مکمل پابندی ہوگی اور تحقیقی بنیادوں پر ’نیم اینڈ شیم‘ مہم شروع کی جائے گی تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو عوام کے سامنے لایا جا سکے۔ منصوبے میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں سے اٹھنے والے دھوئیں پر بھی سخت نگرانی کی بات کی گئی ہے۔ بلیک اسموک چھوڑنے والے یونٹس کے خلاف فوری کارروائی، ہر چھ ماہ بعد اخراج کا آڈٹ اور ہوٹلوں کو لکڑی و کوئلے سے ایل پی جی یا برقی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت شامل ہے۔ کانگریس نے ’زیرو بلیک اسموک ممبئی‘ کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ٹریفک سے پیدا ہونے والی آلودگی کم کرنے کے لیے خودکار PUC نگرانی، بغیر ٹیسٹ چلنے والی گاڑیوں پر جرمانہ، تنگ تجارتی علاقوں میں کنجیشن چارجز اور بیسٹ کی الیکٹرک بسوں میں اضافہ بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ ڈیزل بسوں میں ایئر فلٹرز نصب کیے جائیں گے جبکہ گڈھوں سے پاک سڑکوں پر ٹریفک کثافت میں کمی لانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ خطرناک AQI کی صورت میں فوری ایمرجنسی پلان بھی شامل ہے۔ 200 سے اوپر AQI پر رات میں تعمیراتی کام محدود، 300 سے زائد پر غیر ضروری تعمیرات مکمل طور پر بند اور 400 سے اوپر پہنچنے پر تمام دھول پیدا کرنے والے کام فوراً روک دیے جائیں گے۔ بچوں، معمر افراد اور مزدوروں کے لیے خصوصی اقدامات میں اسکولوں میں ایئر پیوریفائر، آلودہ دنوں میں آؤٹ ڈور سرگرمیوں کی معطلی، فرنٹ لائن ورکرز کے لیے N95 ماسک اور محکمہ صحت کی جانب سے باقاعدہ آلودگی الرٹس شامل ہیں۔

شہر میں ہریالی کے فروغ کے لیے ’گرین ممبئی 2030‘ کے تحت دس لاکھ نئے درخت لگانے، ساحلی علاقوں، منگرووز اور آرے جنگل کے مکمل تحفظ اور فلائی اوور و میٹرو کے ستونوں پر ورٹیکل گارڈنز کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ممبئی کی فضا کو بچانا انتخابی وعدہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری ہے اور اگر عوام نے اعتماد کیا تو ممبئی کو دوبارہ سانس لینے کے قابلِ شہر بنانا کانگریس کا پہلا قدم ہوگا۔

MRCC Urdu News 1 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading