ریاستی الیکشن کمیشن اپنے ہی اصول نافذ کرنے میں ناکام، انتخابی عمل میں شدید بدنظمی: ہرش وردھن سپکال

ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل بلدیاتی انتخابات مؤخر، سپکال نے کمیشن پر سنگین بے ضابطگیوں اور سیاسی جانبداری کا الزام لگایا

ممبئی: ریاست کی 246 میونسپل کونسلوں اور 42 نگر پنچایتوں میں پولنگ سے محض ایک دن قبل 20 بلدیاتی اداروں اور چند وارڈز کے انتخابات اچانک ملتوی کیے جانے کے پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انتخابی کمیشن اپنے ہی قواعد پر عمل نہیں کر سکتا اور مکمل بدنظمی کا شکار ہو چکا ہے۔ اگر یہ فیصلہ عدالت کے حکم کی بنیاد پر لیا گیا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ عدالت کا فیصلہ 22 نومبر کو آیا تھا، تو پھر 30 نومبر تک یعنی پورے ۸ دن تک الیکشن کمیشن سویا ہوا تھا کیا؟ ان کے مطابق یہ تاخیر ناقابلِ فہم اور انتخابی مشینری کی بدترین ناکامی ہے۔

سپکال نے کہا کہ مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات تقریباً دس برس بعد منعقد ہو رہے ہیں، مگر اس پورے عمل میں ابتدا سے ہی بدنظمی اور غیر شفافیت نظر آ رہی ہے۔ پہلے فارم جمع کرنے کا عمل بے جا پیچیدہ بنایا گیا، پھر ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر غلطیاں کی گئیں، ڈبل اور ٹربل انٹریاں شامل ہوئیں اور انتخابات کے اعلان کے بعد جب عدالت نے ریزرویشن کے معاملے پر ہدایات دیں تو کئی نگر پنچایتوں کا مستقبل ہی معلق رہ گیا۔ اب اچانک 20 میونسپل کونسلوں کے انتخابات ملتوی کر دینا اس بدنظمی کی تازہ مثال ہے۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ چونکہ ۳ دسمبر کے عدالتی فیصلے کے نتائج ان انتخابات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے ۳ دسمبر کو آنے والا نتیجہ بھی 20 دسمبر کی پولنگ کے بعد ہی جاری ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا بنیادی فرض صاف، شفاف اور منظم انتخابات کرانا ہے، مگر پچھلے چند برسوں کے کام کاج سے صاف ظاہر ہے کہ کمیشن کو خود انتخابات کرانے کی اہلیت باقی نہیں رہی۔

سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف کارروائی سیاسی انتقام کا حصہ

نیشنل ہیرالڈ معاملے میں دہلی پولیس کے کرائم برانچ کی جانب سے سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے جانے کی سپکال نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سراسر سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ، اپوزیشن کو دبانے اور اس کی آواز خاموش کرنے کے لیے سرکاری اداروں کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ کا معاملہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے، جس کی کئی تحقیقات ہو چکی ہیں مگر کہیں سے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا، اس کے باوجود گاندھی خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ گاندھی خاندان نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آج جب راہل گاندھی آئینی حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد کر رہے ہیں تو ان کے خلاف دباؤ کی سیاست کی جا رہی ہے۔ کانگریس ایسی کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی اور اس انتقامی سیاست کو پوری قوت سے بے نقاب کرے گی۔ سپکال نے سوال اٹھایا کہ جب مرکزی حکومت نیشنل ہیرالڈ جیسے کمزور کیس میں ایکشن لے سکتی ہے تو پھر مرکزی وزیر مرلی دھر موہول اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے بیٹے پارٹھ پوار کے خلاف پونے کی اربوں روپے کی زمین گھوٹالہ معاملے میں مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا رہے؟ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن کی بدنظمی اور حکومت کی جانبدارانہ کارروائیاں دونوں ہی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں اور کانگریس ان کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی۔

MPCC Urdu News 1 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading