کانگریس کا ہدف بی جے پی کی آمرحکومت کا خاتمہ ہے: ناناپٹولے
نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ڈرگ مافیا کے خلاف ’ناسک بچاؤ‘تحریک چلائی جائے گی
ریاستی کانگریس کی شمالی مہاراشٹر ڈویژن کی ضلع وار جائزہ میٹنگ کا انعقاد
ناسک:بھارتیہ جنتا پارٹی آج ملک کو اسی طرح لوٹ رہی ہے جس طرح انگریزوں نے لوٹا تھا۔ بی جے پی حکومت نے ریلوے بیچ دی، ہوائی اڈے بیچ دیے، بجلی کی تقسیم کا نظام بیچ دیا اور کئی عوامی ادارے بھی بیچ دیے۔ مودی حکومت ترقی کے نام پر صرف ملک کے اثاثے بیچ رہی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ کانگریس کا واحد مقصد آمربی جے پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے جو ملک میں جمہوری نظام، آئین اور عدالتی نظام کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
شمالی مہاراشٹر کے احمد نگر، جلگاؤں، دھولیہ، نندوربار اضلاع کا جائزہ اجلاس ناسک میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اودے پور کیمپ میں کیے گیے فیصلے کو نافذ کرتے ہوئے ضلع، بلاک اور منڈل سطح پر پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کانگریس پارٹی اسمبلی وپارلیمنٹ کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرسکے۔ پٹولے نے کہا کہ اب مقامی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ماحول بدل گیا ہے۔ ہمارے لیڈر راہل گاندھی کی قیادت پر لوگوں کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ عام لوگوں کا ماننا ہے کہ صرف کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد ہی ملک کو بچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سورج کی روشنی کی طرح واضح ہے کہ راجستھان، چھتیس گڑھ، تلنگانہ، مدھیہ پردیش سمیت پانچوں اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد زبردست اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئے گی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ناسک میں بڑی مقدار میں منشیات کا ملنا بہت سنگین معاملہ ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے طلباء کو منشیات کے جال میں پھنسا کر ان کی زندگیوں سے کھیلنا گناہ ہے۔ کانگریس پارٹی ان ڈرگ مافیا کی مدد کرنے والوں کے خلاف ہے۔ نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی کا موقف ہے کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث کسی کو معاف نہیں کرنے کا ہے۔کانگریس نوجوانوں کو منشیات کے زہر سے بچانے کے لیے’ناسک بچاؤ‘ تحریک چلائی جائے گی۔
ایم ایل اے کنال پاٹل کی کاٹن مل کے خلاف کی گئی کارروائی پر نانا پٹولے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ جس طرح انگریزوں کے دور میں حکومت کے خلاف بولنے والوں پر مقدمہ چلایا جاتا تھا، اب اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی حکومت اپوزیشن میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی کا دوہرا کردار یہ ہے کہ اس نے ان لیڈروں کو اقتدار میں لایا جن پر وزیر اعظم نے 70 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔
اس جائزہ میٹنگ میں ریاستی صدر نانا پٹولے، قانون ساز پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر اور ایم ایل اے پرنیتی شندے، ایم ایل اے کنال پاٹل، ریاستی جنرل سکریٹری ڈاکٹر راجو واگھمارے، ناسک سٹی کانگریس کے صدر آکاش چھاجیڈ اور دیگر لیڈران موجود تھے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی میں منظورذات پر مبنی مردم شماری قرارداد کاہم خیرمقدم کرتے ہیں:ناناپٹولے
ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد کو ہٹانے کے لیے CWC کی قرارداد بہت اہم ہے
ممبئی:کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں دو اہم قراردادیں منظور کی گئی ہیں جن میں ایک ذات پر مبنی مردم شماری ہے اور دوسری ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد ختم کرنے کا ہہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ان دونوں قراردادوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ بہار حکومت نے حال ہی میں ذات پرمبنی مردم شماری کراتے ہوئے ملک میں ایک مثال قائم کی ہے۔ کانگریس کی حکومت والی ریاستی حکومتوں نے بھی ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اب بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں نیز مہاراشٹر میں بھی ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی کا موقف ’جس کی جتنی آبادی، اس کی اتنی حصہ داری‘ کا ہے۔ہرسماج کو اس کا حق ملنے کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری کیا جانا نہایت اہم ہے۔ مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ ہورہا ہے، لیکن جب تک ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد ختم نہیں کی جاتی اس وقت تک ریزرویشن کی راہ آسان نہیں ہوگی۔ کانگریس پارٹی نے 50 فیصد کی حد کو ہٹانے کے لیے مسلسل مرکزی حکومت سے رجوع کیا ہے، لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت اس پر کوئی فیصلہ نہیں لے رہی ہے۔ بی جے پی ذات پرمبنی مردم شماری کی مخالف ہے اور مخالفت کی وہ جو وجوہات بتارہی ہے وہ بھی مضحکہ خیزہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ جب میں قانون ساز اسمبلی کا سپیکر تھا تو میں نے قانون ساز اسمبلی میں ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کی قرارداد پیش کی تھی جسے منظور کر لیا گیا۔ مہاراشٹر کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں نے بھی یہی قرارداد پاس کی، لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت نے ذات پرمبنی مردم شماری نہیں کرائی۔ ریاست میں او بی سی کے لیے سیاسی ریزرویشن کا معاملہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے، دھنگر برادری کے ریزرویشن کا مسئلہ ابھی باقی ہے۔اگر انہیں حل کرنا ہے تو ذات پر مبنی مردم شماری ہی واحد راستہ ہے۔