کانگریس کی ’سدبھاؤنا پد یاترا‘ کا مساجوگ سے شاندار آغاز

سنتوش دیشمکھ کا قتل ایک خطرناک رجحان کا نتیجہ، مجرموں کو سخت سزا دی جائے: ہرش وردھن سپکال

متعدد سرکردہ شخصیات کی شرکت، ہزاروں افراد نے ہم آہنگی کے پیغام کے ساتھ مارچ میں حصہ لیا

مساجوگ/ممبئی: مہاراشٹر کے مساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے بہیمانہ قتل نے ریاست میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ اس ہولناک واقعے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے ’سدبھاؤنا پدیاترا‘ کا آغاز کیا، جس کا مقصد نفرت کی سیاست کا خاتمہ اور سماجی یکجہتی کا فروغ ہے۔ یاترا کا آغاز مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا، جو اس موقع پر دیشمکھ کے اہلِ خانہ سے بھی ملے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

میڈیا سے گفتگو میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ یہ سوال ہم سب کے لیے ہے کہ کیا ہم سنتوش دیشمکھ کی قربانی سے سبق سیکھیں گے یا نہیں؟ وہ ایک مخصوص نظریے کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے شہید ہوئے اور اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس رجحان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آہنگی ہمارے ملک کے آئینی و تہذیبی ورثے کا حصہ ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہوگی۔ دیشمکھ خاندان نے جس صبر اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔ مجرموں کو مذہب یا ذات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ان کے گھناؤنے عمل کی بنا پر سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس یاترا کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نفرت، خوف اور فرقہ وارانہ سیاست کو رد کر کے سماجی یکجہتی کو مضبوط کیا جائے۔ سنتوش دیشمکھ کے قتل کے مجرموں کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں نکلنے والی اس سدبھاؤنا یاترا میں ہماچل کی انچارج رجنی تائی پاٹل، سابق وزیر اشوک پاٹل، ناندیڑ کے رکن پارلیمنٹ رویندر چوہان، ریاستی کانگریس کے نائب صدر موہن جوشی، گنیش پاٹل، ریاستی چیف ترجمان اتل لونڈھے، ضلع صدر راہل سوناونے، سینئر ماہر اقتصادیات ایم ایچ دیسرڈا، سابق جج بی جی کولسے پاٹل، نوجوان لیڈر اجنکیا پاٹل، ریاستی کانگریس کے جنرل سیکریٹری رام چندر عرف آبا دلوی، امر کھاناپورے، دادا صاحب منڈے، بھگوان گڈھ کے ٹرسٹی اور جالنہ ضلع کانگریس کے کارگزار صدر راجندر راکھ سمیت ریاستی کانگریس اور بیڑ ضلع کانگریس کے عہدیداران، سماجی کارکنان، خواتین، نوجوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی

یاترا کے دوران ہزاروں شہریوں نے سماجی یکجہتی کے اس کارواں میں شرکت کی اور ’ذات پات مٹاؤ، انسانیت بچاؤ‘ کے نعرے بلند کیے۔ پیدل مارچ مساجوگ سے نکل کر اتریشور پمپری پھاٹا، پِمپل گاؤں، سانگوی، سارنی، رینو پیٹرول پمپ، برڈ، ناندور پھاٹا، یلمبھا گھاٹ، چاکرواڑی فاٹا اور نیکنور سے گزرتے ہوئے آگے بڑھے گی، جہاں رات کا قیام ہوگا۔ 9 مارچ کو بیڑ میں اس یاترا کا اختتام ایک عظیم الشان ہم آہنگی میلے کے ساتھ ہوگا۔ پدیاترا کے آغاز پر سنتوش دیشمکھ کے بیٹے اور بھائی دھننجے دیشمکھ بھی مارچ میں شریک ہوئے اور تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک ساتھ چلے۔ بھاری بھیڑ کے باعث کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور کانگریس ضلع صدر راہل سوناونے نے انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، جس پر مجمع میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ یہ یاترا مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی بحالی کے لیے ایک مضبوط پیغام ثابت ہو رہی ہے، جس میں تمام طبقات کے لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت، عوام میں اتحاد و یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کرنے کی علامت ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading