سوپنگندھا گھاٹے کی شاندار کارکردگی تھانے ٹرانسپورٹ سروس کی خاتون ڈرائیور کو دہلی میں اعزاز

تھانے (آفتاب شیخ)

آل انڈیا اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ انڈرٹیکنگ (ASRTU) نئی دہلی نے تھانے میونسپل کارپوریشن (TMC) کی ٹرانسپورٹ سروس میں کانٹریکٹ پر کام کرنے والی خاتون ڈرائیور سوپنگندھا گھاٹے کو ان کی غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا۔ یہ اعزاز انہیں سابق آئی پی ایس افسر کرن بیدی کے ہاتھوں دیا گیا، جو خود بھی خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔

سوپنگندھا سوپنل گھاٹے، جن کی عمر 38 سال ہے، ڈرائیور نمبر 2006 کے تحت سال 2020 سے تھانے ٹرانسپورٹ سروس میں بطور بس ڈرائیور اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ اپوروا ویمنز سوشل آرگنائزیشن کے ذریعے کارپوریشن کے ٹرانسپورٹ انٹرپرائز میں شامل ہوئیں اور تب سے مسلسل اپنی محنت، ایمانداری اور لگن سے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

عام طور پر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خواتین کی موجودگی کم دیکھی جاتی ہے، خاص طور پر بس ڈرائیونگ جیسے پیشے میں۔ تاہم، سوپنگندھا گھاٹے نے اپنی صلاحیتوں اور مہارت سے یہ ثابت کیا کہ خواتین کسی بھی شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر سکتی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنی محنت سے اپنی پہچان بنائی بلکہ اپنی ایمانداری اور حسنِ سلوک کے سبب بھی مسافروں اور ساتھی ملازمین میں عزت و احترام حاصل کیا۔

نئی دہلی میں ہونے والی تقریب میں ASRTU کی جانب سے سوپنگندھا گھاٹے کو یہ اعزاز دیا گیا۔ اس موقع پر کرن بیدی نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے یہ ایک شاندار مثال ہے کہ اگر محنت اور جذبہ ہو تو کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

تھانے میونسپل کمشنر سوربھ راؤ نے ان کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف سوپنگندھا گھاٹے کے لیے بلکہ تھانے ٹرانسپورٹ سروس اور تھانے میونسپل کارپوریشن کے لیے بھی ایک اعزاز ہے، کیونکہ اس سے قومی سطح پر ان کی خدمات کو تسلیم کیا گیا ہے۔

تھانے میونسپل کارپوریشن کے کمشنر سوربھ راؤ نے بھی سوپنگندھا گھاٹے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے اس طرح کے مواقع پیدا کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مزید آگے بڑھ سکیں اور ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔

سوپنگندھا گھاٹے کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم اور حوصلہ ہو تو کسی بھی مشکل راستے کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ ان کی کہانی دیگر خواتین کے لیے بھی مشعلِ راہ بن سکتی ہے، جو مختلف شعبوں میں اپنی پہچان بنانے کے خواہشمند ہیں۔

تھانے ٹرانسپورٹ سروس میں ایک خاتون ڈرائیور کا قومی سطح پر اعزاز حاصل کرنا، خواتین کی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو خواتین ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading