ممبئی: آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جو عورتوں کی عظمت اور ان کی کامیابیوں کا جشن ہے۔ مگر اسی موقع پر این سی پی شرد چندر پوار کی خواتین ونگ کی ریاستی صدر روہنی کھڈسے نے ایک غیر معمولی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے براہ راست صدر جمہوریہ سے درخواست کی ہے کہ ہمیں قتل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس حوالے سے ان کا ایک مکتوب سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔
اپنے خط میں وہ لکھتی ہیں کہ ’سب سے پہلے، آپ کو عالمی یومِ خواتین کی دلی مبارکباد! ہمارا ملک مہاتما بدھ اور مہاتما گاندھی کا ملک کہلاتا ہے، جو امن اور عدم تشدد کی علامتیں ہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ، مجھے یہ غیر معمولی درخواست کرنی پڑ رہی ہے اور اس کی وجہ بھی انتہائی سنگین ہے‘۔ انہوں نے ملک میں خواتین کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ خواتین پر ہونے والے مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’محض دو دن قبل ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں ایک 12 سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ صدر جمہوریہ محترمہ، ذرا سوچیے، 12 سال کی بچی! یہ کتنا خوفناک اور شرمناک المیہ ہے؟‘ روہنی کھڈسے نے مزید لکھا کہ عالمی ادارے ’ورلڈ پاپولیشن ریویو‘ کے تازہ ترین سروے کے مطابق ایشیا میں خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک بھارت ہے۔ اس رپورٹ میں خواتین کے اغوا، جبری گمشدگی، گھریلو تشدد اور دیگر سنگین مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔
اپنی درخواست میں وہ لکھتی ہیں کہ ’ہم آپ سے تمام خواتین کی جانب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ایک قتل معاف کر دیا جائے۔ ہمیں قتل کرنا ہے اس وحشیانہ ذہنیت کو، اس درندہ صفت رویے کو، اس نظام کو جو خواتین کے تحفظ میں ناکام ہو چکا ہے۔ محترمہ صدر، اگر ماضی میں رانی تارارانی اور اہلیہ بائی ہولکر نے اپنے ملک و قوم کی حفاظت کے لیے تلوار اٹھائی تھی، تو ہم سماجی اصلاح کے لیے پیچھے کیوں رہیں؟‘ آخر میں انہوں نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی کہ ان کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور اس عالمی یومِ خواتین پر یہی سب سے بڑی سوغات سمجھی جائے۔
