ناگپور میں کانگریس کی دو روزہ ورکشاپ اختتام پذیر، چندرپور کے بی جے پی عہدیداران اور درجنوں کارکنان کانگریس میں شامل
ناگپور: مہاراشٹر میں آسمانی و زمینی آفات کے سبب کسان بدترین بحران کا شکار ہیں، لیکن بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت نے اب تک کسانوں کو ایک روپیہ تک امداد دینے کی زحمت نہیں کی ہے۔ صرف اعلانات پر اکتفا کیا گیا ہے۔ اتوار کے روز مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مہاراشٹر کے دورے پر آئے، مگر متاثرہ کسانوں کی مدد کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ امیت شاہ کے سامنے خاموش رہے، جو مہاراشٹر کے کسانوں کی توہین کے مترادف ہے۔ یہ سخت تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ناگپور کے کامٹی میں منعقد کانگریس کے دو روزہ تربیتی کیمپ کے اختتامی جلسے کے بعد پریس کانفرنس میں کی۔
سپکال نے کہا کہ ریاست میں شدید بارشوں سے کسانوں کی فصلیں، مویشی اور گھروں تک کا نقصان ہوا ہے، لیکن بی جے پی۔مہایوتی حکومت نے اب تک کوئی مدد نہیں دی۔ امیت شاہ احمد نگر کے دورے پر آئے مگر ایک بار بھی کسانوں کی حالت یا ان کی مالی مدد کا ذکر نہیں کیا۔ دراصل بی جے پی ایک کسان مخالف پارٹی ہے جس نے کسانوں کو مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا ہے۔ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فی ہیکٹر پچاس ہزار روپے فوری امداد دی جائے، ربیع سیزن کے لیے بیج و کھاد مفت فراہم کی جائے اور کسانوں کے قرض معاف کیے جائیں۔ مگر ریاستی قیادت مرکزی وزیر داخلہ کے سامنے ایک لفظ بھی بولنے کی ہمت نہیں کر سکی، جو شرمناک ہے۔ سپکال نے کہا کہ کسان خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے، یہ انتہائی افسوسناک منظر ہے۔
دریں اثنا، ناگپور میں ’آج کی شہری سیاست‘ کے موضوع پر کانگریس پارٹی کی دو روزہ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، قانون ساز پارٹی کے لیڈر وجے وڈیٹی وار اور سابق وزیر ڈاکٹر نتن راؤت نے رہنمائی کی۔ اس ورکشاپ میں ریاست کے مختلف شہروں کے سابق میئر، سابق اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین، شہر صدور، سینئر کارپوریٹرز اور منتخب ریاستی عہدیداران شریک ہوئے۔ ورکشاپ کا افتتاح ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا اور کہا کہ کانگریس آئندہ دنوں میں شہری علاقوں میں اپنی تنظیم کو ازسرِ نو فعال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی (ڈی سنٹرلائزیشن) ہی کانگریس کا بنیادی اصول ہے اور اسی سے پارٹی کو مضبوطی ملے گی۔ معلوماتی حقوق کے کارکن وِویک ویلَنکر نے شہریوں کے روزمرہ مسائل جیسے بجلی بل اور انشورنس تنازعات کے حل کے لیے موثر طریقے بتائے۔ تربیتی شعبے کے سربراہ آشتوش شرکے نے ’بدلتی شہری سیاست‘ پر مباحثہ کیا جبکہ راجو بھیسے نے ’گھر پٹہ تحریک‘ پر خطاب کیا۔
وجے وڈیٹی وار نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ وارڈ سطح پر رابطے کا نیٹ ورک قائم کریں، سوسائٹی تک پہنچیں، تہواروں پر عوام سے جڑے رہیں اور ووٹروں سے مسلسل رابطہ رکھیں تاکہ تنظیمی بنیاد مضبوط ہو۔ اس موقع پر زبردست سیاسی پیش رفت دیکھنے میں آئی، جب چندرپور ضلع کے ورورا میونسپل کونسل کے سابق صدر، بی جے پی کے سابق ضلع سیکریٹری اور اقلیتی مورچہ کے سابق نائب صدر احتشام علی نے اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ان کے ساتھ بی جے پی تعلقہ صدر تُلسی رام شریرامے اور درجنوں کارکنان بھی کانگریس میں شامل ہوئے۔
احتشام علی نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں اکیس ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے اپنی عوامی مقبولیت ثابت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، محترمہ پرینکا گاندھی اور ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کی قیادت سے متاثر ہو کر پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کی شمولیت سے چندرپور اور بھدراؤتی کے علاوہ پورے ضلع میں کانگریس کو تقویت ملے گی اور رکن پارلیمنٹ پرتبھا تائی دھانورکر کی قیادت مزید مستحکم ہوگی۔ اس موقع پر ناگپور کانگریس کے صدر و رکن اسمبلی وکاس ٹھاکرے، ریاستی کانگریس کے نائب صدر عارض بیگ مرزا، سریش بھوئیر، راجا بھاؤ ٹڈکے اور دیگر ریاستی عہدیداران موجود تھے۔
MPCC Urdu News 5 October 25.docx