مراٹھا ریزرویشن جیسے سنجیدہ معاملے پر بی جے پی لیڈران کی سیاست افسوسناک: سیاسی مفاد حاصل کرنے کی غرض سے ریزرویشن کے موقف میں متواترتبدیلی : کانگریس

ممبئی: مراٹھا ریزرویشن کے معاملے میں ایک جانب ریاستی حکومت عدالتی سطح پر مضبوطی کے ساتھ جدوجہد کررہی ہے تو دوسری جانب بی جے پی لیڈران اس معاملے میں اپنا سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے گھٹیا سیاست کررہے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔

بی جے پی لیڈران اس معاملے میں نہ صرف یہ کہ اپنے موقف پرقائم نہیں رہتے ہیں بلکہ اپنے سیاسی مفاد کے مطابق اس میں مسلسل تبدیلی بھی کرتے ہیں۔ ای ڈبلیو ایس کے ریزرویشن کے معاملے میں بھی بی جے پی لیڈران اپنے مختلف موقف کے ساتھ لوگوں کوگمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کی ہے۔ وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

سچن ساونت نے کہا کہ مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کے لیے ریاستی حکومت نہایت مستعدی کے ساتھ عدالتی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے لیکن بدقسمتی سے ایس ای بی سی کے تحت حاصل ہوئے ریزوریشن پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہے۔ ایس ای بی سی کا ریزرویشن لاگو ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایک ہی ریزرویشن کا فائدہ حاصل ہو لیکن بدقسمتی سے عدالت میں ایس ای بی سی کے ریزوریشن پر روک لگ جانے اور مراٹھا برادری کے طلباء کو ریزوریشن کا فائدہ حاصل ہونے کی غرض سے حکومت نے نوٹیفکیشن رد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس موقع پر بی جے پی کے کچھ لیڈران نے اس فیصل کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ای ڈبلیو ایس کا ریزرویشن دینے کے بعد عدالت میں ایس ای بی سی سے فائدہ حاصل کرنے کے معاملے میں عدالتی جدوجہد کمزور ہوگی۔ جبکہ ونائک میٹے جیسے لوگ بھی ای ڈبلیوایس ریزرویشن دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

بی جے پی لیڈران میں یک رائے نہ ہونے کی بناء پر ریاستی حکومت نے ای ڈبلیوایس کے فیصلے پر روک لگادی تھی اوربی جے پی کے لیڈران کو کوئی ایک موقف اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد کئی طلبہ ای ڈبلیوایس کے ریزرویشن کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع ہوئے اور عدالت نے ان کا مطالبہ منظور کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading