سیکولر اسٹریم، میڈیا اور سوشل میڈیا کے غلبے میں اپنی رائے بنانے والوں کو بتائیے کہ خود پولیس نے اپنی تحقیقات میں یہ واضح کردیا ہیکہ منور فاروقی نے کسی ہندو دیوی یا دیوتا کی توہین نہیں کی ہے
منور فاروقی کو اندور مدھیہ پردیش کی پولیس نے ہندو دیوتاؤں اور وزیرداخلہ امیت شاہ کی بے عزتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، اس گرفتاری کے دو دنوں بعد اپنی رپورٹ بتاتے ہوئے تکا گنج پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کملیش شرما نے بتایا کہ جس ویڈیو کو ہمارے پاس بطور ثبوت بھیجا گیا تھا وہ تو کسی دوسرے کامیڈین کی ہے جو گنیش دیوتا کے متعلق لطیفہ گوئی کررہاہے، ہمیں کوئی ٹھوس ثبوت منور فاروقی کے خلاف نہیں ملا کہ وہ ہندو دیوتاؤں کی بے عزتی کررہا ہو ” یہ رپورٹ انسپکٹر کملیش شرما کی ہے .
منور فاروقی کو جب گرفتار کیاگیا اور اس پر بھاجپا کے سنگھی لیڈروں نے بھیڑ کے ساتھ حملہ کیا تب منصوبہ بند طورپر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسا ماحول بنایاگیا کہ منور بڑا تخریبی نوجوان ہے، اس نے ہندوﺅں کے دیوی دیوتاؤں کا مذاق اڑایا ہے، اس طرح کا ماحول شدت سے پھیلایا جاتاہے کسی بھی مسلمان کے معاملے میں جسے سنگھی ریاست نشانہ بناتی ہے، تاکہ اسے جائز ہمدردی اور حمایت نہ مل سکے، منور کے ساتھ بھی یہی ہورہاتھا، لیکن ہم نے منور فاروقی کی حمایت کی تھی، کیونکہ ہم نے اس کے متعلقات کھنگالنے کےبعد یہ معلوم کرلیاتھا کہ اس نے گزشتہ چند دنوں میں تو ایسی کوئی بات نہیں کی ہے، اگر منور کی کسی ویڈیو سے ہندو دیوتاؤں کی کوئی بات آتی بھی ہے تو وہ ۸ ماہ پرانی ہے، یوٹیوب پر اس کا اپلوڈنگ ریکارڈ ۸ مہینے پہلے کا ہے، لیکن اب تو پولیس سرے سے یہ کہہ رہی کہ دیوتاؤں کی تذلیل والا کوئی ویڈیو ملا نہیں،
البتہ آس پاس کے دنوں میں منور کی ویڈیوز اس وجہ سے ٹرینڈنگ میں رہی ہیں کہ عمر خالد کی حمایت اور امیت شاہ اور ہندوستانی گھٹیا ظالمانہ سیاست پر وہ بڑے چبھتے ہوئے مزاحیہ طنز کررہاتھا، وہ گودی میڈیا اور مودی کی سیاست پر زبردست تنقید کررہا تھا نوجوانوں کے پسندیدہ ٹرینڈز میں اور یہی وجہ تھی جو سنگھی خیمے کو درد دے رہی تھی، منور کی شہرت اور نوجوانوں میں اس کا اثر بھاجپا کے خلاف اثرانگیز ہورہا تھا، ہم نے اس پہلو کو سمجھنے کےبعد منور کی حمایت کی تھی، اور اس کی گرفتاری اور اس پر حملے کی مخالفت کررہےتھے،
لیکن بعض لوگ جنہیں بار بار یہ خیال ستانے لگتا ہے کہ فلاں واقعے سے، ہندو۔ ناراض ہوجائیں گے، حکومت کو ہندو۔مسلم کا موقع مل جائےگا، سیکولرزم اور یکجہتی پر اثر پڑ جائے، ایشوز ڈائورٹ ہوجائیں گے، انہیں منور فاروقی کے لیے میری حمایت اچھی نہیں لگی جیسے شرجیل امام کے حق میں جب وہ گرفتار ہوا تھا تب ہماری شرجیل کے لیے حمایت اچھی نہیں لگی تھی، وہ بھارت کے سیکولر مین اسٹریم یا ایسے غیرمسلموں کی رائے کو دیکھ دیکھ کر اپنا موقف قایم کرتےہیں جوکہ اندر سے اسلاموفوبیا کے زہر میں آلودہ رہتےہیں… میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ منور فاروقی کوئی بہت عظیم یا رول ماڈل ہے بلکہ میں منور فاروقی کے کیس سے آپ کو بھارت میں پولیس کارروائیوں، گرفتاریوں اور میڈیا ٹرائل کا محرک بتانے کی کوشش کررہاہوں* اب شاید پولیس کے اس بیانیے کےبعد کچھ سمجھ آئے_
منور فاروقی کےخلاف پولیس مقدمہ ایکلویا سِنگھ نے کیا ہے جوکہ ہندوتوا گروپ ہند رکھشک سنگھٹن کا چیف ہے، اسی طرح ایکلویا سِنگھ بی۔جے۔پی ایم ایل اے مالینی گور کا بیٹا ہے، اس سے یقینًا سمجھا جاسکتاہے کہ فاروقی کی سرگرمیاں کس کھوکھلے نظریہ کو چوٹ پہنچا رہی ہیں.
ہمارے بہت سارے لوگ جنہیں ایسے واقعات کےبعد سخت طیش آنے لگتاہے کہ اب ہندو ناراض ہوگا اور ایشو بن جائےگا ان سے درخواست ہیکہ قوم کے بچوں اور موجودہ نسل پر غصہ اتارنے کے بجائے آپ نے جس ماضی کو گزار کر یہ نفرتی ہندوستان آج کی نسل کو سونپا ہے اس پر غور کیجیے.
جب امیت شاہ اور نریندرمودی نے این آر سی اور CAA کے کاغذات مسلمانوں سے جانچنے کا قانون جبراً بنایا تو منور فاروقی نے اپنے احتجاجی بینر پر یہ لکھا: ” میں گجراتی ہوں اور میرے ڈاکیومینٹس گجرات فسادات میں جل گئے ”
منور کی نفسیات سمجھنے کے لیے اتنا کافی ہوگا کہ وہ گجرات فسادات کے مظلوموں سے بھی تعلق رکھتاہے.
✍🏻: سمیع اللّٰہ خان
۵ جنوری ۲۰۲۰
ksamikhann@gmail.com