MPCC Urdu News 31 October 25

کانگریس کے ریاستی صدر پر پولیس کی نگرانی، بیڈروم تک میں گھس کر جاسوسی

ریاست میں بڑھتے جرائم کو فڈنویس کی پشت پناہی، ممبئی انکاؤنٹر پر این ایس جی کی موجودگی کے باوجود پولیس فائرنگ پر سنگین سوال

اکولہ اور ہنگولی کے شیوسینا کے اہم لیڈران کارکنوں سمیت کانگریس میں شامل، الیکشن کمیشن کے خلاف یکم نومبر کے مورچے میں کانگریس کی مکمل شرکت کا اعلان

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام عائد کیا ہے کہ ان پر پولیس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ممبئی کے نانا چوک کے سروودیہ آشرم میں قیام کے دوران پولیس مسلسل ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ آج صبح عام لباس میں ایک پولیس اہلکار سیدھا ان کے بیڈروم میں داخل ہوا اور وہاں تلاشی لینا شروع کر دی۔ سپکال کے مطابق یہ تیسرا موقع ہے جب ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ ہم پر یہ نگرانی آخر کس کے حکم سے رکھی جا رہی ہے؟

تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے بتایا کہ پولیس اہلکار نے ان کے کمرے میں گھس کر پوچھا کہ کیا آپ پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، کیا صحافی پہنچ گئے ہیں؟ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ کس کے حکم سے آیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ مجھے میرے سینئرز نے بھیجا ہے، آپ ان سے فون پر بات کر سکتے ہیں۔ ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی نگرانی بی جے پی حکومت کے حکم پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پیگاسس، پھر فون ٹیپنگ اور اب براہِ راست بیڈروم تک پہنچنا یہ بی جے پی کی فسطائی ذہنیت اور اپوزیشن کو ڈرانے کا حربہ ہے۔ مگر ہم ان حرکتوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ممبئی کے پوئی علاقے میں ہوئے انکاؤنٹر پر بھی ہرش وردھن سپکال نے سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ پولیس نے روہت آریہ نامی شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا، جس پر الزام تھا کہ اس نے کچھ بچوں کو یرغمال بنایا تھا۔ سپکال نے کہا کہ بچوں کی حفاظت بے شک سب سے اہم ہے، مگر جب موقع پر این ایس جی کے کمانڈوز موجود تھے تو پھر پولیس کو گولی چلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اطلاعات کے مطابق وہ شخص ذہنی طور پر کمزور تھا، لیکن اسی نے سندر میرا اسکول جیسا سرکاری پروگرام شروع کیا تھا اور سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور وزیر تعلیم دیپک کیسَرکر کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا تھا۔ اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تفتیش ہونی چاہیے۔

سپکال نے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ریاست جرائم کی پناہ گاہ بن گئی ہے۔ ڈاکٹر سمپدا منڈے کی خودکشی دراصل قتل ہے، کیونکہ انہیں دباؤ اور ہراسانی کا سامنا تھا۔ اس معاملے میں بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ رنجیت سنگھ نائک نِمبالکر کا نام سامنے آیا ہے جن پر تاوان، اغوا اور مارپیٹ کے سنگین الزامات ہیں۔ اس کے باوجود فڈنویس نے بغیر کسی تحقیق کے انہیں کلین چِٹ دے دی۔ اسی طرح سندھودرگ ضلع کے بانڈے گاؤں کے ایک پھول فروش نے بی جے پی عہدیداروں کی زیادتی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی، مگر حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ریاست میں بڑھتے جرائم اور بی جے پی رہنماؤں کی غنڈہ گردی کے لیے فڈنویس ہی ذمہ دار ہیں، وہ دراصل مجرموں کے سرغنہ ہیں۔

اسی دوران اکولہ ضلع میں ایکناتھ شندے گروپ کے شیوسینا رہنما وجے مالوکار نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ تین بار اسمبلی انتخابات لڑ چکے ہیں اور مختلف سرکاری کمیٹیوں میں کام کر چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ہنگولی ضلع کے شیوسینا (اُدھو ٹھاکرے گروپ) کے رہنما ڈاکٹر رمیش شنڈے پاٹل اور متعدد کارکنان بھی ہرش وردھن سپکال کی موجودگی میں کانگریس میں شامل ہوئے۔ ان کے ساتھ نیشنلسٹ کانگریس، یوا سینا، بی جے پی اور کسان تنظیموں کے کئی عہدیداران نے بھی کانگریس کا دامن تھام لیا۔ سپکال نے ان سب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں گڑھ چرولی، جالنا اور ناندیڑ میں بھی بڑے پیمانے پر لوگ کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں کئی اہم رہنما کانگریس میں آئیں گے۔

الیکشن کمیشن کے خلاف 1 نومبر کو ہونے والے مشترکہ مورچے کے بارے میں سوال پر سپکال نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں سنگین گھپلے ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ سب سے پہلے راہل گاندھی نے اٹھایا تھا اور ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ دھاندلی کو بے نقاب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہونے چاہئیں، یہی تمام پارٹیوں کا مطالبہ ہے۔ اس مورچے میں کانگریس پارٹی کے رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔ اس موقع پر کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر نسیم خان، ریاستی نائب صدر سچن نائک اور ترجمان سچن ساونت بھی موجود تھے۔

MPCC Urdu News 31 October 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading