ڈاکٹر سمپدا منڈے کیس میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کی جائے: محبوب شیخ
ممبئی: این سی پی- ایس پی کے یوتھ ونگ کے ریاستی صدر اور ترجمان محبوب شیخ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر سمپدا منڈے کی مبینہ خودکشی کے معاملے کی شفاف جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پھلٹن میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دراصل ’جنگل راج‘ کی ایک بھیانک مثال ہے، سوال یہ ہے کہ پھلٹن کے اس جنگل راج کا اصل ویرپّن کون ہے؟
محبوب شیخ نے ممبئی میں پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کے ساتھ پارٹی کے ترجمان پروفیسر شیو راج بانگر بھی موجود تھے۔ محبوب شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر سمپدا منڈے کی موت کے بعد معطل پولیس افسر گوپال بدنے کے خلاف محکمہ جاتی تفتیش جاری ہے اور وڈوج پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر گھنشام سونونے کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ مگر انسپکٹر سونونے کے ماضی میں سنگین الزامات رہے ہیں اور اسی بنیاد پر محبوب شیخ نے اس تقرری پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گھنشام سونونے کے خلاف کئی شکایات درج ہیں، حتیٰ کہ ایک معاملے میں ہائی کورٹ نے بھی انہیں تنبیہ کی تھی۔ آخر وزیر اعلیٰ فڈنویس نے ایسے افسر کو کیوں مقرر کیا؟ کیا پورے مہاراشٹر میں کوئی دیانت دار افسر نہیں بچا؟ اس موقع پر محبوب شیخ نے میڈیا کو سونونے کے انسٹاگرام پروفائل کے کچھ اسکرین شاٹس دکھاتے ہوئے الزام لگایا کہ سونونے کے بی جے پی کے وزیر جے کمار گورے سے قریبی تعلقات ہیں اور انہیں حکمراں پارٹی کا مکمل تعاون حاصل ہے۔
محبوب شیخ نے کہا کہ جب تفتیش ایسے افسران کے سپرد کی جائے گی جو خود اس معاملے سے جڑے افراد کے قریب ہیں، تو متاثرہ خاتون کو انصاف کیسے ملے گا؟ اگر واقعی حکومت انصاف چاہتی ہے تو فوراً ایس آئی ٹی کی تشکیل کرے اور آزادانہ تفتیش کرائے۔ محبوب شیخ نے یہ بھی کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ یہ پورا معاملہ بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ رنجیت سنگھ نائک نمبالکر کے دباؤ میں چل رہا ہے، اسی وجہ سے انتظامیہ ان کے حق میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سمپدا منڈے کے کردار پر سوال اٹھا کر اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پھلٹن پولیس سے شفاف تفتیش کی امید کیسے کی جا سکتی ہے، جب انہی پولیس اہلکاروں پر متاثرہ کو ہراساں کرنے کے الزامات ہیں؟ محبوب شیخ نے کہا کہ یہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر کی خودکشی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ مہاراشٹر کے نظامِ انصاف اور پولیس کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہے۔ ریاستی حکومت اگر خاموش رہی تو عوام خود انصاف کے لیے سڑکوں پر اتر آئیں گے۔
NCP-SP Urdu News 31 Oct. 25.docx