MPCC Urdu News 30 May 2020

بی جے پی سے اس کے جھوٹ پر کسی بھی پلیٹ فارم پربحث کے لیے تیارہوں:سچن ساونت کا بی جے لیڈران کوچیلینج

نظرانداز مزدوروں کی توقع پر پورا اترنے میں مرکزکی بے جے پی حکومت ناکام

مودی جی کی پیدائش سے پہلے سے ہی ریلوے سبسڈی سے چل رہی ہے ، تو کوویڈکے لیے کیا دیا گیا؟

ممبئی:مہاجرمزدوروں کے ریل کرائے میں رعایت دینے کا بی جے پی کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہونے کے باوجود بی جے پی لیڈران اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔سپریم کورٹ میں سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے خود اس جھوٹ کو بے نقاب کیا ہے لیکن بی جے پی کی ڈھٹائی ایسی ہے کہ ’گری ہے تو بھی ٹانگ اوپر‘ہی ہے ۔ بی جے پی کے لوگوں کا جھوٹ جب بے نقاب ہوتا ہے تو یہ ذاتیات پر اترآتے ہیں اور یہ ان کی پرانی عادت ہے۔ بی جے پی کے لیڈران کسی بھی پلیٹ فارم پر بحث کے لیے آئیں، میں ان کے جھوٹ کو ثبوتوں کے ساتھ ثابت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ علانیہ چیلنج آج یہاں مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور ترجمان سچن ساونت نے کیا ہے ۔

بی جے پی لیڈران پر سخت تنقید کرتے ہوئے سچن ساونت نے مزید کہا کہ مودی جی نیز آشیش شیلار کی پیداہونے سے قبل سے ہی تمام مسافر ٹرینیں سبسیڈی سے ہی چل رہی ہیں۔ نہ صرف سلیپر کلاس بلکہ فرسٹ کلاس کے ٹکٹوں پر بھی سبسڈی رہتی ہے۔بی جے پی کے لیڈران مہینے بھرسے اس بات پر اپنا سینہ پیٹ رہے ہیں کہ مزدوروں کے ریل کرائے کا 85فیصدخرچ مرکزی حکومت کررہی ہے۔ یہ جھوٹ بے نقاب ہونے کے بعد اب وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ وہ 85فیصد سبسیڈی ہے۔ اس ملک میں تمام پسینجر ٹرینیں سبسیڈی پر ہی چلتی ہیں۔ یہ خرچ مال بردار وکمرشیل مارکیٹنگ سے پورا کیا جاتا ہے۔ ریلوے نے یکم جنوری2020کوجب کرایوں میں اضافہ کیا تو سلیپر کلاس کے ٹکٹ کرائے کی بہ نسبت آج کے مزدوروں کے لیے اسپیشل ٹرین کے کرائے میں 50روپئے اضافہ کیاہے۔ یہ بے حسی نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر کووڈ سے قبل 50روپئے سستا ٹکٹ مل رہا تھا تو کووڈ کے لیے مودی سرکار نے کیا کیا؟ ان سوالوں کے جواب بی جے پی کو دینا چاہئے۔ اسی کے ساتھ ہالی ڈے اسپیشل یا پھر جنتا کٹیگری کی تمام ٹرینیں آج کی مزدوروں کے ٹرین سے زیادہ سستے میں چل رہی تھیں، جبکہ مزدروں کی ٹرینیں بھی اسی کٹیگری کی ہیں۔ توکووڈ سے قبل یہی ٹرینں سبسیڈی میں چلائی گئیں اور اب کووڈکے بعد ان میں کیا فرق ہوگیا؟ کانگریس کی یو پی اے حکومت نے توغریبوں کے لیے غریب رتھ اے سی ٹرین شروع کی ۔ وہ بھی سبسیڈی پر ہی چل رہی تھی۔ اس بحران کے دورکا موازنہ کمرشیل سروس کے ساتھ کرنا انتہائی درجے کی بے حسی ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ مرکزی حکومت کا مہاجر مزدوروں پر خرچ کرنے کا ارادہ ہی نہیں تھا، اسی لیے یہ ذمہ داری ریاستی حکومتوں کے سر ڈالنے کی سازش کی جارہی تھی۔ لیکن اس خوف سے کہ ملک میں ان کی اس بے حسی پر تنقید کی جائے گی، بی جے پی کے لیڈران جھوٹ بول رہے تھے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں جن لوگوں پر ذمہ داری ہے وہ نہ صرف غیرذمہ دارہیں بلکہ بے ایمان و حد درجہ کے بے حس بھی ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ ریاستوں وعوام کو مرکزی حکومت کی جانب سے دیئے گئے قرض لینے کا مشورہ مرکزی حکومت نے ریلوے کو کیوں نہیں دیا؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کے ریل کرائے میں مرکزی حکومت کی جانب سے85فیصد خرچ کرنے کا دعویٰ کرنے والے بی جے پی کے ریاستی صدر چندرکانت پاٹل اپنے اس دعوے کا ثبوت پیش کریں یا پھر جھوٹ بول کر عوام کوگمراہ کرنے پرمعافی مانگیں۔ دیوندرفڈنویس، چندرکانت پاٹل، آشیش شیلار، سمبت پاترا نے اس معاملے میں کس طرح مسلسل جھوٹ بولا، اس کا ثبوت سچن ساونت نے اس پریس کانفرنس میں پیش کیااور کہا کہ بی جے پی کے لیڈرا ن کو جھوٹ بولنے کی تربیت آر ایس ایس سے ملتی ہے۔سچن ساونت نے کہا کہ مہاجرمزدوروں کو مودی حکومت نے نظر انداز کردیا ہے اور انہیں متوقع مددبھی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔میری پارٹی میں ، میں نظرانداز ہوں یا نہیں ، اس پر بحث کرنے کے بجائے جو واقعتا نظرانداز لوگ ہیں، ان کے ساتھ انصاف کرنا زیادہ اہم ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading